18 سال بعد بننے والی فلم ’بھاگم بھاگ‘ کے سیکوئل سے گووندا کی چھٹی کردی گئی اور ان کی جگہ منوج باجپائی اہم کردار میں دکھائی دیں گے۔ 

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بالی ووڈ اسٹارز اکشے کمار، گووندا اور پریش راول کی کامیڈی سے بھرپور فلم ’بھاگم بھاگ‘ کے سیکوئل کی تیاری جاری ہیں لیکن ایسے میں مداحوں کے لیے ایک بری خبر سامنے آئی ہے۔ 

فلم میں اکشے کمار، پاریش راوال اور گووندا کے درمیان کیمسٹری نے 2006 میں ریلیز ہونے والی فلم بھاگم بھاگ کو مقبولیت دلائی تھی۔

تاہم، رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اکشے کمار اور پاریش راوال فلم بھاگم بھاگ 2 میں دکھائی دیں گے تاہم گووندا کا کردار منوج باجپائی ادا کریں گے۔ 

رپورٹ میں یہ بھی تصدیق کی گئی کہ فلم میں ایک نئی کہانی شامل ہوگی، جس میں مزاحیہ صورتحال دیکھنے والوں کے لیے مزید الجھن پیدا کریں گی، فلم کی پروڈکشن کا شیڈول اگلے ماہ ممبئی میں شروع ہوگا۔



گووندا کا اپنے بھانجے کرشنا سے متعلق حیران کن دعویٰ، خاندانی تنازع کی وجہ بھی بتادی



 گووندا اور میرے درمیان طلاق نہیں ہوئی، ہم اب بھی ساتھ رہتے ہیں، سنیتا آہوجا

صارفین نے فلم کی کاسٹ کی تبدیلی پر شدید رد عمل ظاہر کیا۔ 

ایک صارف کا کہنا تھا کہ اگر بھاگم بھاگ بن رہی ہے، تو گووندا کو واپس آنا چاہیے تھا۔

ایک اور لکھا ہے کہ منوج باجپائی کبھی بھی اس طرح مزاح نہیں کرسکتے جیسا گووندا کرتا تھا، اداکار کو واپس لانے کی درخواست کرنی چاہیے تھی۔

ایک صارف نے دعویٰ کیا کہ گووندا کی غیر موجودگی میں یہ ایک فلاپ فلم ثابت ہوگی۔  

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بھاگم بھاگ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم