امارات، 98 فیصد ملازمین اپنی نوکریاں تبدیل کرنے پر تیار
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
دبئی (ویب ڈیسک) خلیجی خطے سے متعلق تازہ تنخواہ گائیڈ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے تقریباً 98 فیصد ملازمین بہتر تنخواہ اور مراعات کی صورت میں نوکری تبدیل کرنے کے لیے تیار ہیں، جس سے ملازمت کی مارکیٹ میں بڑھتی مسابقت کی نشاندہی ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر ملازمین اب صرف تنخواہ ہی نہیں بلکہ ملازمت کے ماحول، ترقی کے مواقع، کام اور ذاتی زندگی کے توازن اور دیگر سہولیات کو بھی اہمیت دے رہے ہیں، جس کے باعث ادارے ہنر مند افرادی قوت کو برقرار رکھنے کے لیے نئے اقدامات کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں معاشی سرگرمیوں کے بڑھنے اور نئی سرمایہ کاری آنے کے باعث مختلف شعبوں میں تجربہ کار ملازمین کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس سے ملازمین کو بہتر مواقع تلاش کرنے کا اعتماد بھی ملا ہے۔دوسری جانب ماہرین نے مزید کہا کے آنے والے عرصے میں اداروں کو ملازمین کو برقرار رکھنے کے لیے بہتر تنخواہ، تربیتی پروگرام اور کام کے بہتر ماحول پر توجہ دینا ہوگی، کیونکہ مسابقتی مارکیٹ میں ہنر مند افراد کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔