ٹیکس کا بوجھ مزید بڑھ گیا، تنخواہ دار طبقہ شدید دباؤ کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں پہلے ہی مہنگائی، کم تنخواہوں اور معاشی عدم استحکام کا شکار تنخواہ دار طبقہ اب مزید ٹیکس بوجھ تلے دب گیا ہے۔
ایف بی آر کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران تنخواہ دار افراد کی جانب سے ادا کیے گئے انکم ٹیکس میں 10 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو بڑھ کر 315 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے جنوری کے دوران تنخواہ دار طبقے نے گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 30 ارب روپے زیادہ ٹیکس ادا کیا۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک سے ہنرمند، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پیشہ ور افراد کی بیرونِ ملک ہجرت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جسے برین ڈرین قرار دیا جا رہا ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق گزشتہ کیلنڈر سال میں ملک چھوڑنے والے ساڑھے 7 لاکھ سے زائد پاکستانیوں میں سے ایک بڑی تعداد ہنرمند یا انتہائی ہنرمند افراد پر مشتمل تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر متناسب ٹیکس بوجھ، محدود مواقع اور کم آمدن نے اس طبقے کو بیرونِ ملک جانے پر مجبور کیا ہے۔
اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ تنخواہ دار افراد کی ٹیکس ادائیگیاں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے مقابلے میں دگنے سے بھی زیادہ رہیں، جو ٹیکس نظام میں عدم توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ نان کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین نے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کیا، جب کہ کارپوریٹ اور سرکاری شعبے کے ملازمین بھی نمایاں حصہ ڈال رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے دعوے بارہا کیے گئے، تاہم زمینی حقائق ان دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سینیٹ کمیٹی میں تسلیم کیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے باعث زیادہ آمدن والے طبقے کو خاطر خواہ ریلیف دینا ممکن نہیں ہو سکا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹیکس پالیسیوں میں توازن نہ لایا گیا تو نہ صرف برین ڈرین میں مزید اضافہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت کو بھی طویل المدتی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جب کہ تنخواہ دار طبقہ بدستور سب سے زیادہ متاثر ہوتا رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تنخواہ دار
پڑھیں:
جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
انگلینڈ کے مایہ ناز وکٹ کیپر بلے باز جوز بٹلر نے ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ کرس گیل کو پیچھے چھوڑ دیا۔
دی ہنڈریڈ میں مانچسٹر سپر جائنٹس اور لندن اسپرٹ کے درمیان لارڈز میں کھیلے گئے میچ کے دوران بٹلر نے صرف 16 رنز کی اننگز کھیلنے کے باوجود ٹی ٹوئنٹی کیریئر 14 ہزار 572 رنز کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی تاریخ میں دوسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز بن گئے۔
کرس گیل اب 14 ہزار 562 رنز کے ساتھ تیسرے نمبر پر چلے گئے ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا عالمی ریکارڈ اب بھی ویسٹ انڈیز کے آل راؤنڈر کیرون پولارڈ کے پاس ہے جنہوں نے 14 ہزار 803 رنز بنا رکھے ہیں۔
View this post on Instagramبٹلر اب اس سنگ میل سے صرف 231 رنز دور ہیں اور رواں سیزن میں یہ اعزاز اپنے نام کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ 35 سالہ بٹلر بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بھی سب سے زیادہ رنز بنانے والوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔