data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان میں پہلے ہی مہنگائی، کم تنخواہوں اور معاشی عدم استحکام کا شکار تنخواہ دار طبقہ اب مزید ٹیکس بوجھ تلے دب گیا ہے۔

ایف بی آر کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران تنخواہ دار افراد کی جانب سے ادا کیے گئے انکم ٹیکس میں 10 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو بڑھ کر 315 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے جنوری کے دوران تنخواہ دار طبقے نے گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 30 ارب روپے زیادہ ٹیکس ادا کیا۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک سے ہنرمند، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پیشہ ور افراد کی بیرونِ ملک ہجرت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جسے برین ڈرین قرار دیا جا رہا ہے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق گزشتہ کیلنڈر سال میں ملک چھوڑنے والے ساڑھے 7 لاکھ سے زائد پاکستانیوں میں سے ایک بڑی تعداد ہنرمند یا انتہائی ہنرمند افراد پر مشتمل تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر متناسب ٹیکس بوجھ، محدود مواقع اور کم آمدن نے اس طبقے کو بیرونِ ملک جانے پر مجبور کیا ہے۔

اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ تنخواہ دار افراد کی ٹیکس ادائیگیاں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے مقابلے میں دگنے سے بھی زیادہ رہیں، جو ٹیکس نظام میں عدم توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ نان کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین نے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کیا، جب کہ کارپوریٹ اور سرکاری شعبے کے ملازمین بھی نمایاں حصہ ڈال رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے دعوے بارہا کیے گئے، تاہم زمینی حقائق ان دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سینیٹ کمیٹی میں تسلیم کیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے باعث زیادہ آمدن والے طبقے کو خاطر خواہ ریلیف دینا ممکن نہیں ہو سکا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹیکس پالیسیوں میں توازن نہ لایا گیا تو نہ صرف برین ڈرین میں مزید اضافہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت کو بھی طویل المدتی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جب کہ تنخواہ دار طبقہ بدستور سب سے زیادہ متاثر ہوتا رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تنخواہ دار

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف