اسلام آباد کے علاقے ترلائی کے رہائشی عباس نقوی کا کہنا ہے کہ خودکش دھماکے میں ان کے ایک کزن شہید جبکہ ایک زخمی ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا، ’’ہم اس وقت بس انتظار میں کھڑے ہیں کہ ہمیں ان سے ملنے دیا جائے، کیونکہ ابھی وارڈ میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ایک کو ہم کھو چکے ہیں، مزید کسی بری خبر کو برداشت کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم اسی آس میں یہاں کھڑے ہیں کہ کب ہمیں اندر جانے دیا جائے تاکہ ہم اپنے زخمی عزیز کو خود دیکھ سکیں اور تسلی ہو جائے۔‘‘

عباس نقوی کا کہنا تھا، ’’ہم ایسی صورتحال میں ہیں کہ نہ گھر جا کر اس کزن کا دکھ منا سکتے ہیں جسے ہم کھو چکے ہیں، اور نہ ہی یہاں رہ کر دوسرے کزن کی خیریت معلوم کر پا رہے ہیں۔‘‘

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’جو لوگ شہید ہوئے ہیں، ان کا غم ہم سب کے لیے ایک جیسا ہے۔ وہ سب ہمارے اپنے تھے، ہمارے بھائی، باپ اور بچے تھے۔‘‘

یاد رہے کہ آج دوپہر وفاقی دارالحکومت کے علاقے ترلائی میں واقع مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران خودکش دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں درجنوں نمازی شہید جبکہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہو گئے۔

ریسکیو اور سیکیورٹی اقدامات

واقعے کے فوراً بعد پولیس، ریسکیو اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے۔ آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر شہر بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، جبکہ زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک ہسپتال منتقل کیا گیا۔

اسپتالوں کی صورتحال

ترجمان ہیلتھ منسٹری ساجد شاہ کے مطابق اب تک پمز ہسپتال میں 28 ڈیڈ باڈیز لائی جا چکی ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 105 ہو گئی ہے۔

ڈیڈ باڈیز کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ 31 ڈیڈ باڈیز کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جن میں سے 28 پمز میں ہیں جبکہ باقی تین ممکنہ طور پر پولی کلینک میں موجود ہیں۔

لواحقین کی پریشانی

پمز ہسپتال میں موجود زخمی نمازیوں کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ انہیں اچانک اطلاع ملی، جس کے بعد وہ فوری طور پر ہسپتال پہنچے۔ بعض افراد نے بتایا کہ انہیں معلوم ہے کہ ان کے پیاروں کو پمز منتقل کیا گیا ہے، مگر تاحال وہ انہیں تلاش نہیں کر سکے۔

طبی انتظامات

ترجمان پمز کے مطابق ای ڈی پمز کی ہدایت پر مین ایمرجنسی، آرتھوپیڈک، برن سینٹر اور نیورو ڈیپارٹمنٹ کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اسسٹنٹ کمشنرز کو بھی مختلف ہسپتالوں میں زخمیوں کے علاج و معالجے کی نگرانی کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

حکومتی مؤقف

واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش دھماکے کو حکومت نے بھارت کی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ جنگ پاکستان پر مسلط کی گئی ہے، تاہم ریاست اسے جیتنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے دہشت گرد ہارڈ ٹارگٹس کے بجائے عبادت گاہوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام آباد کے مطابق کا کہنا

پڑھیں:

واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد

امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔

حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔

کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔

حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔

حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد