ایران اسرائیل جوہری تصادم روکا، دنیا کو اٹامک وار میں جانے سے روک رہا ہوں: ٹرمپ کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جوہری تصادم کو روکا ہے، اور دنیا کو اٹامک وار میں جانے سے روک رہاہوں۔
ٹروتھ سوشل جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں دنیا کو اٹامک وار میں جانے سے روک رہاہوں باوجود اس کے کہ سب جانتے ہیں امریکا دنیا کا سب سے طاقتور ملک ہے.
انہوں نے کہا کہ اسپیس فورس کا قیام میری حکومت کا بڑا کارنامہ ہے، امریکا اپنے بحری بیڑے میں جدید ترین اور انتہائی طاقتور جنگی بحری جہاز شامل کر رہا ہے، نئے بیٹل شپس دوسری جنگِ عظیم کے جہازوں سے سو گنا زیادہ طاقتور ہوں گے۔
امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری جنگ رکوانے میں کردار ادا کیا، روس اور یوکرین کے درمیان ایٹمی جنگ نہیں ہونے دی، امریکا کو نئے اور جدید جوہری معاہدے کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔