امریکا ایران مذاکرات آج ہوں گے، فریقین کے نمائندے مسقط پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
امریکا ایران مذاکرات آج ہوں گے، فریقین کے نمائندے مسقط پہنچ گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 6 February, 2026 سب نیوز
مسقط: (آئی پی ایس) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وٹکوف مذاکرات کیلئے عمان پہنچ گئے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی وفد میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وٹکوف کے ہمراہ ہیں۔
دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیرخارجہ عباس عراقچی آج صبح مسقط میں امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات میں شریک ہوں گے، ایران جوہری مذاکرات میں پورے اختیار کے ساتھ منصفانہ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور باوقار مفاہمت تک پہنچنے کے مقصد سے شریک ہوگا۔
اس سے قبل امریکا، ایران جوہری مذاکرات جمعے کو ہی ترکیہ میں شیڈول تھے جس کے بعد ایران کی جانب سے مذاکرات استنبول سے عمان منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ایران نے مذاکرات کا مقام تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ مذاکرات میں علاقائی شراکت داروں کو شامل نہ کرنے اور بات چیت صرف جوہری معاملات تک محدود رکھنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرلاہور میں 25 سال بعد بسنت، ہر طرف بھنگڑے، بوکاٹا کی صدائیں لاہور میں 25 سال بعد بسنت، ہر طرف بھنگڑے، بوکاٹا کی صدائیں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں: چینی سفیر لکی مروت، نامعلوم افراد نے گیس پائپ لائن کو دھماکا خیز مواد سے تباہ کر دیا یومِ یکجہتی کشمیر، افواج پاکستان کا کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی و سیاسی حمایت جاری رکھے گا: صدر و وزیراعظم کسی بھی دہشت گرد اور سہولت کار کو نہیں چھوڑا جائے گا: فیلڈ مارشلCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔