واشنگٹن:

وائٹ ہاؤس نے ایران کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کے پاس محض سفارتکاری ہی نہیں بلکہ اس سے آگے بھی کئی آپشنز موجود ہیں۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات آج عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے جا رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے پریس بریفنگ کے دوران سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے حوالے سے اپنے مؤقف پر بالکل واضح ہیں۔

مزید پڑھیں

بساط پھر بچھ گئی، ایران، امریکا کے درمیان کل مسقط میں مذاکرات ہوں گے

ٹرمپ کی خامنہ ای کو ایک بار پھر کھلی وارننگ، ’ایران کو فکرمند ہونا ہوگا‘

ان کا کہنا تھا کہ صدر یہ جانچنا چاہتے ہیں کہ آیا ایران کے ساتھ کوئی قابلِ عمل معاہدہ ممکن ہے یا نہیں، تاہم امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے دیگر راستے اختیار کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

کیرولین لیوٹ نے ایرانی قیادت کو براہِ راست پیغام دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر دنیا کی تاریخ کی سب سے طاقتور فوج کے کمانڈر اِن چیف ہیں اور وہ اپنے آئینی اختیارات استعمال کرنے کی پوری اہلیت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ایران مسقط میں ہونے والے جوہری مذاکرات میں مکمل اختیار کے ساتھ شریک ہوگا اور اس کا مقصد ایک منصفانہ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور باوقار مفاہمت تک پہنچنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران