سفارتکاری ہی واحد راستہ نہیں، ایران کو وائٹ ہاؤس کی دوٹوک تنبیہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
واشنگٹن:
وائٹ ہاؤس نے ایران کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کے پاس محض سفارتکاری ہی نہیں بلکہ اس سے آگے بھی کئی آپشنز موجود ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات آج عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے جا رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے پریس بریفنگ کے دوران سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے حوالے سے اپنے مؤقف پر بالکل واضح ہیں۔
مزید پڑھیںبساط پھر بچھ گئی، ایران، امریکا کے درمیان کل مسقط میں مذاکرات ہوں گے
ٹرمپ کی خامنہ ای کو ایک بار پھر کھلی وارننگ، ’ایران کو فکرمند ہونا ہوگا‘
ان کا کہنا تھا کہ صدر یہ جانچنا چاہتے ہیں کہ آیا ایران کے ساتھ کوئی قابلِ عمل معاہدہ ممکن ہے یا نہیں، تاہم امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے دیگر راستے اختیار کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
کیرولین لیوٹ نے ایرانی قیادت کو براہِ راست پیغام دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر دنیا کی تاریخ کی سب سے طاقتور فوج کے کمانڈر اِن چیف ہیں اور وہ اپنے آئینی اختیارات استعمال کرنے کی پوری اہلیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ایران مسقط میں ہونے والے جوہری مذاکرات میں مکمل اختیار کے ساتھ شریک ہوگا اور اس کا مقصد ایک منصفانہ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور باوقار مفاہمت تک پہنچنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔