ایران فوجی تصادم سے گریز چاہتا ہے، خطے میں موجودگی بڑھا رہےہیں، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن : امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور تہران کسی فوجی تصادم سے گریز چاہتا ہے۔ واشنگٹن میں نیشنل پریئر بریک فاسٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ امریکا خطے میں اپنی بحری موجودگی بڑھا رہا ہے اور ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی سمت روانہ ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ذاتی نوعیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ طویل فضائی سفر کے دوران سونا پسند نہیں کرتے۔ ان کے مطابق وہ جہاز میں کھڑکی سے باہر دیکھتے رہتے ہیں تاکہ دشمنوں اور میزائلوں پر نظر رکھی جا سکے۔ یہ بات انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہی۔
امریکی صدر نے نیشنل پریئر بریک فاسٹ کو امریکا کی ایک مثبت اور دیرینہ روایت قرار دیا۔ تقریب میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔