استقبال ِ رمضان اور ہماری ذمے داریاں
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شعبان کے آخر میں حضور بنی کریمؐ نے استقبال رمضان کے لیے مسلمانوں کو تیار کرنے کے لیے ایک موٴثر خطبہ ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ: ”اے لوگو! تمہارے اوپر ایک عظیم الشان مبارک مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے۔ یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس مہینے کے دن کے روزوں کو اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے اور اس میں رات کو عبادت میں کھڑے ہونے کو ثواب کمانے کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس ماہ میں جو قرب الٰہی کی خاطر کوئی بھلائی کرے گا وہ ایسا ہوگا جیسے دوسرے دنوں میں اس نے ایک فرض ادا کیا ہو۔ اور جو اس میں ایک فرض ادا کرے گا وہ ایسا ہوگا جیسے رمضان کے سوا دوسرے دنوں میں اس نے ستر فرض ادا کیے ہوں اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے۔ اور یہ سوسائٹی کے غریب اور کمزور لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا مہینہ ہے۔ اور اس ماہ میں موٴمن کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو روزے دار کا روزہ افطار کراتا ہے وہ اس کے گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بنتا ہے اور اس کے لیے آگ سے نجات کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔ اور اسے روزے دار کے روزے جتنا ثواب ملتا ہے بغیر اس کے کہ روزے دار کے اجر میں کمی ہو۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہؐ! ہم میں سے ہر ایک کے پاس روزے دار کا روزہ کھلوانے کی استطاعت نہیں ہے تو حضور نبی کریمؐ نے فرمایا: ”یہ ثواب اللہ تعالیٰ اس کو بھی دیتا ہے جو کسی روزے دار کا روزہ ایک کھجور یا پانی پلانے یا دودھ کا ایک گھونٹ پلانے سے کھلوا دے۔ اور یہ ایسا مہینہ ہے جس کی ابتدا رحمت اور جس کا وسط مغفرت اور جس کا آخر آگ سے نجات ہے“۔
اور حضور بنی کریمؐ نے نصیحت کی کہ رمضان کے مہینے میں چار خصلتیں اپناؤ۔ کثرت سے لاالہ الا اللہ پڑھا کرو۔ کثرت سے استغفار کرو، اللہ سے جنت طلب کرو اور آگ سے نجات کی دعا کیا کرو۔ اور جس نے روزے دار کا روزہ افطار کرایا اللہ تعالیٰ اس کو میرے حوض (حوض کوثر) سے پانی پلائے گا جس کے بعد اسے جنت میں داخلے تک پیاس نہیں لگے گی۔ ایک اور حدیث میں حضور بنی کریمؐ نے فرمایا: ”میری امت کو رمضان کے مہینے میں پانچ ایسی نعمتیں عطا کر دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی تھیں۔ پہلی نعمت یہ ہے کہ رمضان کی پہلی رات میں اللہ تعالیٰ ان پر نظر کرم کرتا ہے اور جس پر اللہ نظر کرم کرتا ہے اسے وہ کبھی عذاب نہیں دیتا۔ دوسری یہ کہ فرشتے ہر رات اور ہر دن اس کے لیے بخشش اور مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ تیسری نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت واجب کر دیتا ہے اور جنت کو حکم دیتا ہے کہ میرے روزے دار بندوں کی خاطر خوب آراستہ ہو جاؤتاکہ دنیا کی تگ و دو اور تھکاوٹ کے بعد انہیں میرے گھر اور میری مہمان نوازی میں آرام ملے۔ رمضان کی چوتھی نعمت یہ ہے کہ روزے دار کے منہ کی سڑاند اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ اور پانچویں نعمت یہ ہے کہ رمضان کی آخری رات (یعنی چاند رات) ان کے سارے گناہ بخش دیے جاتے ہیں کیونکہ جب مزدور اپنی مزدوری سے فارغ ہو جاتے ہیں تو ان کی اجرت انہیں پوری پوری دے دی جاتی ہے“۔
لیکن یہ ساری نعمتیں اس کے لیے ہیں جو اپنی حقیقی روح کے ساتھ رمضان کے روزوں کی پابندی کریں کیونکہ بخاری شریف کی ایک حدیث کے مطابق حضور بنی کریمؐ نے فرمایا ہے کہ: ”جو جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کا کھانا پینا چھڑانے سے کوئی غرض نہیں ہے“۔ یعنی روزے کا اصل مقصد یہ ہے کہ مسلمان کی تربیت ہو اور وہ نفسانی خواہشات کا غلام نہ بن جائے بلکہ نفسانی خواہشات کو اپنے ارادے کے تابع بنا دے اور اس کا ارادہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ہو۔ وہ نفسانی خواہشات کو کھلا چھوڑ کر ہر جائز و ناجائز خواہش کی پیروی نہ کرے بلکہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کی پابندی اختیار کرے اس طرح روزہ ضبط نفس کی تربیت کرتا ہے اور انسان کی ”خودی “ کو تقویت بخشتا ہے۔
اور ایک دوسری حدیث میں اس مطلب کو زیادہ واضح کرتے ہوئے فرمایاہے کہ: ”روزہ ڈھال ہے۔ روزے دارکو چاہیے کہ بے حیائی کے کاموں اور لڑائی جھگڑے سے بچے اور اگر کوئی اس سے لڑنے پر اتر آئے یا اسے گالی دے تو دو دفعہ کہے کہ میں روزے دار ہوں“۔ بخاری کی ہی ایک حدیث ہے کہ: ”کتنے ایسے روزے دار ہیں جنہیں ان کے روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں ملتا اور کتنے ہی ایسے رات کو عبادت میں کھڑے ہونے والے ہیں جنہیں بے خوابی کے سوا کچھ نہیں ملتا“۔ ایک دوسری حدیث میں حضور نبی کریمؐ نے فرمایا کہ: ”روزہ صرف کھانا پینا چھوڑنے کا نام نہیں بلکہ بکواس اور گالم گلوچ چھوڑنے کا نام ہے تو اگر کوئی تمہیں گالی دے یا تمہارے ساتھ جھگڑنے لگے تو تم کہو: ”میں تو روزے سے ہوں میں تو روزے سے ہوں“۔
گالم گلوچ اور لڑائی سے پرہیز کرنے والا نرم خُو انسان جو دوسروں کی بدزبانی کے مقابلے میں بھی خاموش رہتا ہے اور لڑنے جھگڑنے سے کنی کتراتا ہے ہمیشہ فائدے میں رہتا ہے۔ یہ عافیت اختیار کرنے کا طریقہ ہے اور ایک عادلانہ اور پُرامن معاشرہ تعمیر کرنے کا طریق کار ہے۔ حضور بنی کریمؐ نے رمضان المبارک کے روزوں کو مسلمانوں کی تربیت کا ذریعہ بنایا تاکہ ایک مہذب اور پرامن معاشرہ قائم ہو۔ قرآن کریم میں روزے کی فرضیت کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اس کی مصلحت یہ بیان کی ہے کہ اس عبادت سے تمہارے اندر تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔
”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کر دیے گئے ہیں جیسے تم سے پچھلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے، شاید کہ تم اللہ سے ڈرو“ (سورہ البقرہ: 183)۔
اللہ کے سامنے جوابدہی کا احساس ہی ایک موٴمن کو اللہ کی نافرمانی اور تمام برائیوں سے بچاتا ہے اور یہ صفت تمام عبادتوں سے بڑھ کر روزے کے ذریعے سے ایک بندہٴ موٴمن میں پیدا ہوتی ہے کہ وہ ہمہ وقت ایک عبادت میں مشغول رہتا ہے اور اللہ کے حکم سے ان خواہشات سے بھی دور رہتا ہے جن کے پورا کرنے پر عام حالات میں کوئی پابندی نہیں ہے۔ اور یہ کھلے اور چھپے ہر حال میں اللہ کے حکم کی پابندی بجالاتا ہے کیونکہ اس کا ایمان ہے کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے اس کے تمام حرکات و سکنات ریکارڈ ہو رہے ہیں اور اسے ایک دن اپنے رب کے دربار میں اس ریکارڈ کے ساتھ پیش ہونا ہے اس دن کوئی دوست اور کوئی عزیز اس کے کام نہیں آئے گا مگر صرف اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور اعمال حسنہ ہی اس کے کام آئیں گے۔
قرآن اور روزے کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ”رمضان کا مہینہ ہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اترا ہے (یعنی وحی کی ابتدا ہوئی ہے) یہ لوگوں کے لیے ہدایت ہے اس میں رہنمائی کے کھلے کھلے احکامات ہیں۔ اور یہ حق و باطل کے درمیان تمیز کرنے والی کتاب ہے تو پس جو کوئی بھی تم میں سے اس مہینہ کو پالے وہ اس کے روزے رکھے“ (ال عمران: 185)۔
رمضان کے روزے، قرآن کی ہدایت ملنے پر شکرگزار بندے کی طرف اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے فرض کر دیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والا ہے۔ روزہ بھی بندوں پر تنگی اور سختی کا نہیں بلکہ اس کے لیے اللہ کی رضا اور خوشنودی کے دروازے کھولنے اور اس کی قوت ارادی کو تقویت دے کر اس کی ”خودی“ کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔ روزہ خالق کے ساتھ بندے کا تعلق جوڑنے اور اسے مضبوط کرنے کے لیے سب سے موٴثر عبادت ہے۔
بخاری اور مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ روزہ اور قرآن قیامت کے روز اللہ کے بندے کی سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے دن کو اسے کھانے پینے اور شہوت سے روکا تھا، تُو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، اور قرآن کہے گا کہ میں نے رات کے وقت اسے محوخواب ہونے سے روکا تھا تُو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ اللہ تعالیٰ دونوں کی سفارش قبول فرمائے گا۔ روزہ سوسائٹی کے غرباء اور فقراء سے تعلق پیدا کرنے اور ان کی ضروریات پوری کر کے معاشرے میں امیر و غریب کے درمیان موٴاخاة و مواساة پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
ہمارے معاشرے میں غریب و امیر کے درمیان جو دوری پیدا ہوئی ہے وہ معاشرے کے امن و امان اور بھائی چارے کے لیے زہر قاتل ہے اور اس کے نتیجے میں ایک ایسا لاوا پک رہا ہے کہ وہ کسی بھی وقت ہمارے ملک کے امن و امان اور طبقہٴ امرا کے ظاہری آسائش و راحت کو بھسم کر سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ روزے کے احکام پر عمل درآمد کرتے ہوئے اجتماعی افطار و سحر اور مل جل کر کھانے پینے کی مجالس کا اہتمام کیا جائے اور دوریوں کو ختم کر کے اخوت کی فضا عام کی جائے۔
حضور بنی کریمؐ نے فرمایاہے کہ: ”جس نے کھانے پینے کی کسی حلال رزق سے کسی کا روزہ افطار کرایا تو فرشتے رمضان کے مہینے کی گھڑیوں میں اس پر درود بھیجتے ہیں اور جبریل امین لیلة القدر کو اس پر درود بھیجتا ہے“۔
یوں تو تمام عبادات مسلمانوں کے درمیان اخوت اور بھائی چارے کی فضا پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں اور انہیں ایک خاندان بنانے کا ذریعہ ہیں لیکن روزے کے ذریعے جو اسلامی ماحول پیدا ہوتا ہے وہ مسلمانوں کے معاشرے کو ہر لحاظ سے ایک ممتاز معاشرہ بنادیتا ہے۔
”نماز“ محمود و ایاز کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنے کا ذریعہ ہے۔ زکوٰة امیروں سے اموال غریبوں کی طرف لوٹانے کا ذریعہ ہے۔ جس طرح موت سب انسانوں کو برابر کر دیتی ہے اسی طرح ”حج“ بھی سب لوگوں کو اپنے رب کے دربار میں ایک ہی لباس پہنا کر پیش کر دیتا ہے۔ اور روزہ سب کو بھوک اور پیاس سے آشنا کر دیتا ہے۔ سحری، افطار اور تراویح کے اوقات میں مسلمانوں کے معاشرے کو ہم رنگ کرکے ایک امتیازی شان پیدا کر دیتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: روزے دار کا روزہ نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالی کر دیتا ہے پیدا کرنے کے درمیان نے فرمایا اس کے لیے اور اس کے رمضان کے ذریعہ ہے کا ذریعہ مہینہ ہے کے لیے ا رہتا ہے کرنے کا اللہ کے پیدا کر کے روزے کے ساتھ میں ایک اور یہ ہے اور اور جس
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
روم (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ ہوگیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لئے ویزا ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کی تقریب اٹلی وزارت خارجہ روم میں منعقد ہوئی۔ معاہدہ سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی اور روابط مضبوط کرے گا۔
مزید :