پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے جموں و کشمیر سے باہر مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف مبینہ ہراسانی اور تشدد پر بھی تشویش ظاہر کی اور ارکانِ پارلیمان سے مطالبہ کیا کہ وہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں اور متعلقہ ریاستی حکومتوں کے سامنے یہ معاملہ اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے سرینگر خصوصاً شہرِ خاص کو درپیش سنگین مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعلٰی عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا کہ سرینگر کے لئے علیحدہ بجٹ مختص کیا جائے۔ انہوں نے بے روزگاری، ہنر مندی کی کمی، شراب کی فروخت اور شہری مسائل کو فوری توجہ کے متقاضی قرار دیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ سرینگر میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے، تاہم سرکاری ملازمتوں سمیت روزگار کے مواقع انتہائی محدود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر میں زراعت، باغبانی اور متعلقہ شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کے باوجود نوجوانوں میں بے روزگاری تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان غریب طبقے کو ہو رہا ہے۔

محبوبہ مفتی نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ سرینگر کے نوجوانوں کے لئے چھ سے آٹھ ماہ کے قلیل مدتی روزگار پر مبنی کورسز شروع کئے جائیں اور کالجوں کے ذریعے اسکل ڈیولپمنٹ اور کنیکٹ سینٹرز قائم کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے لئے بہتر طور پر تیار کیا جا سکے۔ تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرینگر کو سو فیصد خواندگی کا ہدف حاصل کرنا چاہیے، جو صرف تعلیم یافتہ نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کر کے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کو روزگار کے مواقع سے ہم آہنگ کرنا بے روزگاری میں نمایاں کمی لا سکتا ہے۔ شراب کی فروخت کے معاملے پر بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیر کی اکثریتی آبادی شراب کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ شراب ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے، سیاح گجرات اور بہار جیسی خشک ریاستوں میں بھی آتے ہیں۔ یہاں شراب کی فروخت کو فروغ دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بڑھتے ہوئے ذہنی صحت کے مسائل پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ بے روزگاری اور سماجی دباؤ کی وجہ سے لوگ ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا یہاں تک کہ معاشی طور پر مستحکم لوگ بھی ذہنی طور پر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، یہ ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر سے باہر مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف مبینہ ہراسانی اور تشدد پر بھی تشویش ظاہر کی اور ارکانِ پارلیمان سے مطالبہ کیا کہ وہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں اور متعلقہ ریاستی حکومتوں کے سامنے یہ معاملہ اٹھائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سے مطالبہ کیا کہ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے بے روزگاری کہ سرینگر

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار