محبوبہ مفتی کا سرینگر کیلئے علیحدہ بجٹ مختص کرنے اور بے روزگاری کا حل نکالنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے جموں و کشمیر سے باہر مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف مبینہ ہراسانی اور تشدد پر بھی تشویش ظاہر کی اور ارکانِ پارلیمان سے مطالبہ کیا کہ وہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں اور متعلقہ ریاستی حکومتوں کے سامنے یہ معاملہ اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے سرینگر خصوصاً شہرِ خاص کو درپیش سنگین مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعلٰی عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا کہ سرینگر کے لئے علیحدہ بجٹ مختص کیا جائے۔ انہوں نے بے روزگاری، ہنر مندی کی کمی، شراب کی فروخت اور شہری مسائل کو فوری توجہ کے متقاضی قرار دیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ سرینگر میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے، تاہم سرکاری ملازمتوں سمیت روزگار کے مواقع انتہائی محدود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر میں زراعت، باغبانی اور متعلقہ شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کے باوجود نوجوانوں میں بے روزگاری تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان غریب طبقے کو ہو رہا ہے۔
محبوبہ مفتی نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ سرینگر کے نوجوانوں کے لئے چھ سے آٹھ ماہ کے قلیل مدتی روزگار پر مبنی کورسز شروع کئے جائیں اور کالجوں کے ذریعے اسکل ڈیولپمنٹ اور کنیکٹ سینٹرز قائم کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے لئے بہتر طور پر تیار کیا جا سکے۔ تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرینگر کو سو فیصد خواندگی کا ہدف حاصل کرنا چاہیے، جو صرف تعلیم یافتہ نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کر کے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کو روزگار کے مواقع سے ہم آہنگ کرنا بے روزگاری میں نمایاں کمی لا سکتا ہے۔ شراب کی فروخت کے معاملے پر بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیر کی اکثریتی آبادی شراب کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ شراب ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے، سیاح گجرات اور بہار جیسی خشک ریاستوں میں بھی آتے ہیں۔ یہاں شراب کی فروخت کو فروغ دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بڑھتے ہوئے ذہنی صحت کے مسائل پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ بے روزگاری اور سماجی دباؤ کی وجہ سے لوگ ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا یہاں تک کہ معاشی طور پر مستحکم لوگ بھی ذہنی طور پر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، یہ ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر سے باہر مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف مبینہ ہراسانی اور تشدد پر بھی تشویش ظاہر کی اور ارکانِ پارلیمان سے مطالبہ کیا کہ وہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں اور متعلقہ ریاستی حکومتوں کے سامنے یہ معاملہ اٹھائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سے مطالبہ کیا کہ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے بے روزگاری کہ سرینگر
پڑھیں:
نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیے جانے کی توقع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت پنجاب نے نوجوانوں کو آئندہ مالی سال میں الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال میں 50 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کہا کہ ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت دی جائے گی، رجسٹریشن سمیت دیگر مراعات بھی دی جائیں گی۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیئے جانے کی توقع ہے۔