Islam Times:
2026-06-02@22:15:48 GMT

جوہری ہتھیاروں کی مہلک دوڑ

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT

جوہری ہتھیاروں کی مہلک دوڑ

اسلام ٹائمز: موجودہ حالات اس زمانے کی یاد تازہ کر دیتے ہیں جو تاریخ میں بدترین سیکورٹی شکست کے طور پر یاد کیا جاتا ہے اور وہ پہلی عالمی جنگ سے قبل برطانیہ اور جرمنی کے درمیان سمندری طاقت بننے کی دوڑ تھی۔ اس وقت یہ دونوں ممالک برتر سمندری طاقت بننے کے خواب دیکھ رہے تھے جبکہ تناو کم کرنے کا کوئی بین الاقوامی میکانزم بھی نہیں پایا جاتا تھا۔ لہذا قوم پرسانہ اقتدار پسندی کا نتیجہ دونوں میں فوجی ٹکراو کی صورت میں ظاہر ہوا اور عالمی سطح پر کمزور سیکورٹی نظام کی بدولت چھوٹی چھوٹی چنگاریاں بہت جلد ایسی بڑی آگ میں تبدیل ہو گئیں جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پہلی عالمی جنگ کا آغاز ہو گیا۔ آج بھی امریکہ اور چین ملتے جلتے راستے پر گامزن ہیں۔ اگر فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر بحرانوں کو کنٹرول کرنے کا مناسب میکانزم تشکیل نہیں دیا جاتا تو ایک اور عالمی جنگ شروع ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ تحریر: رضا حسینی
 
جوہری ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق ایک اہم اور بنیادی معاہدے کی مدت اسی ہفتے ختم ہو چکی ہے اور یوں دنیا ایک بار پھر جوہری ہتھیاروں کی نئی اور خطرناک دوڑ شروع ہونے کے دہانے پر کھڑی ہے۔ نیو اسٹارٹ نامی معاہدہ امریکہ اور روس کے درمیان منعقد ہوا تھا جس کے تحت اٹامک وار ہیڈز اور بیلسٹک میزائلوں کی تعداد محدود کی گئی تھی اور ان دونوں جوہری طاقتوں نے عہد کیا تھا کہ وہ اس سے زیادہ مقدار میں جوہری ہتھیار تیار نہیں کریں گے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس معاہدے کے اختتام کے بعد گذشتہ نصف صدی پر محیط ماسکو اور واشنگٹن کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کو محدود رکھنے کی کوششیں بھی اختتام پذیر ہو جائیں گی۔ اسٹارٹ ون نامی معاہدہ 1970ء کی دہائی میں میکائیل گورباچوف اور رونلڈ ریگن کے درمیان انجام پایا تھا جبکہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد نیو اسٹارٹ نامی دوسرا معاہدہ منعقد ہوا تھا۔
 
نئی سرد جنگ کا آغاز
گذشتہ چند ماہ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزارت جنگ کو حکم دیا ہے کہ وہ روس اور چین سے برابری کی بنیاد پر جوہری تجربات دوبارہ سے شروع کر دیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ امریکی حکام کی مراد جوہری دھماکوں کے تجربات کرنا ہے یا ان سسٹمز کا تجربہ کرنا ہے جو جوہری ہتھیار بروئے کار لانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ فی الحال، امریکہ اور روس دنیا بھر میں پائے جانے والے جوہری ہتھیاروں کے 86 فیصد حصے کے مالک ہیں جبکہ گذشتہ دو برس کے دوران چین کے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کے ذخائر کی مقدار دوگنا ہو چکی ہے۔ روس کے سابق صدر دیمتری مدوودوف امریکہ سے نیواسٹارٹ معاہدے کے بارے میں مذاکرات کی سربراہی کر رہے تھے۔ انہوں نے جنوری کے آخر میں اعلان کیا کہ یوکرین جنگ اور امریکہ سے دیگر بنیادی اختلافات کے باعث کسی نئے جوہری معاہدے کا امکان بہت کم ہے۔
 
دوسری طرف امریکہ کی وزارت جنگ پینٹاگون بدستور اپنے میزائل دفاعی نظام "گولڈن ڈوم" کو آگے بڑھائے جا رہی ہے جسے مدوودوف نے "انتہائی اشتعال انگیز" قرار دیا تھا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یہ منصوبہ "مکمل طور پر نیواسٹارٹ معاہدے سے متصادم ہے" کیونکہ اس معاہدے میں واضح طور پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسٹریٹجک نوعیت کے دفاعی ہتھیار اور سسٹمز بھی محدود پیمانے پر ہوں گے۔ پرانے ورلڈ آرڈر کے دو روایتی حریفوں کے درمیان دشمنی پر مبنی ماحول کے باوجود ماسکو میں اقتصاد کے پروفیسر ویسیلے کیشین نے فائننشیل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو اس وقت تک اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر میں اضافہ کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا جب تک امریکہ سے اسٹریٹجک توازن برقرار رہتا ہے۔ انہوں نے کہا: "ہم موجودہ صورتحال سے راضی ہیں اور اب تک ہماری سلامتی محفوظ رہی ہے۔ ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع کیوں کریں؟"
 
ہتھیاروں کی دوڑ میں چین کی شمولیت
چین کا جوہری طاقت کے لحاظ سے روس اور امریکہ کے ہم پلہ ظاہر ہونا ایک نیا عمل ہے۔ ماہرین نے 2011ء میں یہ پیشن گوئی کی تھی کہ چین کے پاس 240 جوہری وار ہیڈ ہیں۔ اسی سال روس اور امریکہ نے جوہری ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق نیو اسٹارٹ نامی نیا معاہدہ انجام دیا تھا جس کی بنیاد پر دونوں ممالک نے 2018ء تک اپنے پاس موجود جوہری وار ہیڈز کی تعداد 1550 تک کم کر دینے پر اتفاق کیا تھا۔ اسی طرح انہوں نے ایکدوسرے کو اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر تک رسائی فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا تاکہ معاہدے کی مدت پوری ہونے تک اطمینان حاصل ہوتا رہے۔ نیو اسٹارٹ معاہدہ شروع ہونے کے بعد سے روس اور امریکہ نے اپنے جوہری ہتھیار محدود کیے ہیں۔ اس دوران چین کے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر میں دوگنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور 2024ء کے وسط تک ان کی تعداد 600 تک جا پہنچی ہے۔
 
دنیا جوہری خطرے کا شکار
مذکورہ بالا مطالب سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاو کے لیے جاری سفارت کاری تقریباً بند گلی میں جا پہنچی ہے۔ دوسری طرف جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے اپریل میں نیویارک میں منعقد ہونے والے این پی ٹی کے اجلاس میں بھی کسی اہم پیش رفت کی امید نہیں پائی جاتی۔ جوہری ہتھیاروں کے حامل تقریباً تمام 9 ممالک جن میں امریکہ، روس، چین، فرانس، برطانیہ، انڈیا، پاکستان، شمالی کوریا اور اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم شامل ہے، این پی ٹی کے رکن نہیں ہیں اور انہوں نے نئی نسل کے جوہری ہتھیار تیار کرنے کے منصوبے شروع کر رکھے ہیں جن میں سپرسانک میزائل، ٹیکٹیکل بم اور ایسے کم طاقت والے جوہری ہتھیار شامل ہیں جنہیں استعمال بھی کیا جا سکتا ہو۔ یوں ایک انتہائی خطرناک دور شروع ہونے والا ہے۔
 
موجودہ حالات اس زمانے کی یاد تازہ کر دیتے ہیں جو تاریخ میں بدترین سیکورٹی شکست کے طور پر یاد کیا جاتا ہے اور وہ پہلی عالمی جنگ سے قبل برطانیہ اور جرمنی کے درمیان سمندری طاقت بننے کی دوڑ تھی۔ اس وقت یہ دونوں ممالک برتر سمندری طاقت بننے کے خواب دیکھ رہے تھے جبکہ تناو کم کرنے کا کوئی بین الاقوامی میکانزم بھی نہیں پایا جاتا تھا۔ لہذا قوم پرسانہ اقتدار پسندی کا نتیجہ دونوں میں فوجی ٹکراو کی صورت میں ظاہر ہوا اور عالمی سطح پر کمزور سیکورٹی نظام کی بدولت چھوٹی چھوٹی چنگاریاں بہت جلد ایسی بڑی آگ میں تبدیل ہو گئیں جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پہلی عالمی جنگ کا آغاز ہو گیا۔ آج بھی امریکہ اور چین ملتے جلتے راستے پر گامزن ہیں۔ اگر فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر بحرانوں کو کنٹرول کرنے کا مناسب میکانزم تشکیل نہیں دیا جاتا تو ایک اور عالمی جنگ شروع ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جوہری ہتھیاروں کے ذخائر جوہری ہتھیاروں کی پہلی عالمی جنگ جوہری ہتھیار بین الاقوامی امریکہ اور اور امریکہ نیو اسٹارٹ کے درمیان شروع ہونے اور عالمی انہوں نے نے جوہری روس اور کرنے کا ہے اور

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ