جوہری ہتھیاروں کی مہلک دوڑ
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: موجودہ حالات اس زمانے کی یاد تازہ کر دیتے ہیں جو تاریخ میں بدترین سیکورٹی شکست کے طور پر یاد کیا جاتا ہے اور وہ پہلی عالمی جنگ سے قبل برطانیہ اور جرمنی کے درمیان سمندری طاقت بننے کی دوڑ تھی۔ اس وقت یہ دونوں ممالک برتر سمندری طاقت بننے کے خواب دیکھ رہے تھے جبکہ تناو کم کرنے کا کوئی بین الاقوامی میکانزم بھی نہیں پایا جاتا تھا۔ لہذا قوم پرسانہ اقتدار پسندی کا نتیجہ دونوں میں فوجی ٹکراو کی صورت میں ظاہر ہوا اور عالمی سطح پر کمزور سیکورٹی نظام کی بدولت چھوٹی چھوٹی چنگاریاں بہت جلد ایسی بڑی آگ میں تبدیل ہو گئیں جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پہلی عالمی جنگ کا آغاز ہو گیا۔ آج بھی امریکہ اور چین ملتے جلتے راستے پر گامزن ہیں۔ اگر فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر بحرانوں کو کنٹرول کرنے کا مناسب میکانزم تشکیل نہیں دیا جاتا تو ایک اور عالمی جنگ شروع ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ تحریر: رضا حسینی
جوہری ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق ایک اہم اور بنیادی معاہدے کی مدت اسی ہفتے ختم ہو چکی ہے اور یوں دنیا ایک بار پھر جوہری ہتھیاروں کی نئی اور خطرناک دوڑ شروع ہونے کے دہانے پر کھڑی ہے۔ نیو اسٹارٹ نامی معاہدہ امریکہ اور روس کے درمیان منعقد ہوا تھا جس کے تحت اٹامک وار ہیڈز اور بیلسٹک میزائلوں کی تعداد محدود کی گئی تھی اور ان دونوں جوہری طاقتوں نے عہد کیا تھا کہ وہ اس سے زیادہ مقدار میں جوہری ہتھیار تیار نہیں کریں گے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس معاہدے کے اختتام کے بعد گذشتہ نصف صدی پر محیط ماسکو اور واشنگٹن کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کو محدود رکھنے کی کوششیں بھی اختتام پذیر ہو جائیں گی۔ اسٹارٹ ون نامی معاہدہ 1970ء کی دہائی میں میکائیل گورباچوف اور رونلڈ ریگن کے درمیان انجام پایا تھا جبکہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد نیو اسٹارٹ نامی دوسرا معاہدہ منعقد ہوا تھا۔
نئی سرد جنگ کا آغاز
گذشتہ چند ماہ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزارت جنگ کو حکم دیا ہے کہ وہ روس اور چین سے برابری کی بنیاد پر جوہری تجربات دوبارہ سے شروع کر دیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ امریکی حکام کی مراد جوہری دھماکوں کے تجربات کرنا ہے یا ان سسٹمز کا تجربہ کرنا ہے جو جوہری ہتھیار بروئے کار لانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ فی الحال، امریکہ اور روس دنیا بھر میں پائے جانے والے جوہری ہتھیاروں کے 86 فیصد حصے کے مالک ہیں جبکہ گذشتہ دو برس کے دوران چین کے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کے ذخائر کی مقدار دوگنا ہو چکی ہے۔ روس کے سابق صدر دیمتری مدوودوف امریکہ سے نیواسٹارٹ معاہدے کے بارے میں مذاکرات کی سربراہی کر رہے تھے۔ انہوں نے جنوری کے آخر میں اعلان کیا کہ یوکرین جنگ اور امریکہ سے دیگر بنیادی اختلافات کے باعث کسی نئے جوہری معاہدے کا امکان بہت کم ہے۔
دوسری طرف امریکہ کی وزارت جنگ پینٹاگون بدستور اپنے میزائل دفاعی نظام "گولڈن ڈوم" کو آگے بڑھائے جا رہی ہے جسے مدوودوف نے "انتہائی اشتعال انگیز" قرار دیا تھا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یہ منصوبہ "مکمل طور پر نیواسٹارٹ معاہدے سے متصادم ہے" کیونکہ اس معاہدے میں واضح طور پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسٹریٹجک نوعیت کے دفاعی ہتھیار اور سسٹمز بھی محدود پیمانے پر ہوں گے۔ پرانے ورلڈ آرڈر کے دو روایتی حریفوں کے درمیان دشمنی پر مبنی ماحول کے باوجود ماسکو میں اقتصاد کے پروفیسر ویسیلے کیشین نے فائننشیل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو اس وقت تک اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر میں اضافہ کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا جب تک امریکہ سے اسٹریٹجک توازن برقرار رہتا ہے۔ انہوں نے کہا: "ہم موجودہ صورتحال سے راضی ہیں اور اب تک ہماری سلامتی محفوظ رہی ہے۔ ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع کیوں کریں؟"
ہتھیاروں کی دوڑ میں چین کی شمولیت
چین کا جوہری طاقت کے لحاظ سے روس اور امریکہ کے ہم پلہ ظاہر ہونا ایک نیا عمل ہے۔ ماہرین نے 2011ء میں یہ پیشن گوئی کی تھی کہ چین کے پاس 240 جوہری وار ہیڈ ہیں۔ اسی سال روس اور امریکہ نے جوہری ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق نیو اسٹارٹ نامی نیا معاہدہ انجام دیا تھا جس کی بنیاد پر دونوں ممالک نے 2018ء تک اپنے پاس موجود جوہری وار ہیڈز کی تعداد 1550 تک کم کر دینے پر اتفاق کیا تھا۔ اسی طرح انہوں نے ایکدوسرے کو اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر تک رسائی فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا تاکہ معاہدے کی مدت پوری ہونے تک اطمینان حاصل ہوتا رہے۔ نیو اسٹارٹ معاہدہ شروع ہونے کے بعد سے روس اور امریکہ نے اپنے جوہری ہتھیار محدود کیے ہیں۔ اس دوران چین کے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر میں دوگنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور 2024ء کے وسط تک ان کی تعداد 600 تک جا پہنچی ہے۔
دنیا جوہری خطرے کا شکار
مذکورہ بالا مطالب سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاو کے لیے جاری سفارت کاری تقریباً بند گلی میں جا پہنچی ہے۔ دوسری طرف جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے اپریل میں نیویارک میں منعقد ہونے والے این پی ٹی کے اجلاس میں بھی کسی اہم پیش رفت کی امید نہیں پائی جاتی۔ جوہری ہتھیاروں کے حامل تقریباً تمام 9 ممالک جن میں امریکہ، روس، چین، فرانس، برطانیہ، انڈیا، پاکستان، شمالی کوریا اور اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم شامل ہے، این پی ٹی کے رکن نہیں ہیں اور انہوں نے نئی نسل کے جوہری ہتھیار تیار کرنے کے منصوبے شروع کر رکھے ہیں جن میں سپرسانک میزائل، ٹیکٹیکل بم اور ایسے کم طاقت والے جوہری ہتھیار شامل ہیں جنہیں استعمال بھی کیا جا سکتا ہو۔ یوں ایک انتہائی خطرناک دور شروع ہونے والا ہے۔
موجودہ حالات اس زمانے کی یاد تازہ کر دیتے ہیں جو تاریخ میں بدترین سیکورٹی شکست کے طور پر یاد کیا جاتا ہے اور وہ پہلی عالمی جنگ سے قبل برطانیہ اور جرمنی کے درمیان سمندری طاقت بننے کی دوڑ تھی۔ اس وقت یہ دونوں ممالک برتر سمندری طاقت بننے کے خواب دیکھ رہے تھے جبکہ تناو کم کرنے کا کوئی بین الاقوامی میکانزم بھی نہیں پایا جاتا تھا۔ لہذا قوم پرسانہ اقتدار پسندی کا نتیجہ دونوں میں فوجی ٹکراو کی صورت میں ظاہر ہوا اور عالمی سطح پر کمزور سیکورٹی نظام کی بدولت چھوٹی چھوٹی چنگاریاں بہت جلد ایسی بڑی آگ میں تبدیل ہو گئیں جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پہلی عالمی جنگ کا آغاز ہو گیا۔ آج بھی امریکہ اور چین ملتے جلتے راستے پر گامزن ہیں۔ اگر فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر بحرانوں کو کنٹرول کرنے کا مناسب میکانزم تشکیل نہیں دیا جاتا تو ایک اور عالمی جنگ شروع ہونے کا خطرہ موجود ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جوہری ہتھیاروں کے ذخائر جوہری ہتھیاروں کی پہلی عالمی جنگ جوہری ہتھیار بین الاقوامی امریکہ اور اور امریکہ نیو اسٹارٹ کے درمیان شروع ہونے اور عالمی انہوں نے نے جوہری روس اور کرنے کا ہے اور
پڑھیں:
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔
مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔
مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم