لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کی نمازِ جنازہ ادا، ہزاروں افراد کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے صاحبزادے سیف الاسلام قذافی کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق سیف الاسلام کو منگل کے روز قتل کر دیا گیا تھا جس کے بعد ان کی تدفین کے لیے ہزاروں افراد قصبہ بنی ولید پہنچے جہاں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔
عرب میڈیا کے مطابق سیف الاسلام قذافی، معمر قذافی کے سب سے نمایاں اور بااثر زندہ رہ جانے والے بیٹے سمجھے جاتے تھے اور لیبیا کی سیاست میں ان کا نام طویل عرصے سے زیرِ بحث رہا۔
مزید پڑھیںحکومت، سیاست، مسلح جدوجہد؛ پرُخار راہوں میں مارے جانے والا سیف الاسلام قذافی
واضح رہے کہ بنی ولید کو قذافی خاندان کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے، جہاں جنازے میں شریک ہزاروں افراد نے مرحوم کے حق میں نعرے بھی لگائے اور ان کے لیے دعا بھی کی۔
عرب میڈیا رپورٹس کےمطابق سیف الاسلام قذافی کا قتل چارافراد نےکیا، انہیں باغ میں گولی ماری گئی جس کے بعد ملزمان فرارہوگئے،لیبیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی لانا نےان کے مشیر عبداللّٰہ عثمان کےحوالے سے ان کی موت کی تصدیق کی ہے،سیف الاسلام کو طویل عرصے سے اپنے والد کا جانشین سمجھا جا رہا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیف الاسلام قذافی ہزاروں افراد
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔