WE News:
2026-07-24@02:03:08 GMT

شمال مشرقی بھارت میں کوئلہ کان میں دھماکا، 18 مزدور ہلاک

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

شمال مشرقی بھارت میں کوئلہ کان میں دھماکا، 18 مزدور ہلاک

شمال مشرقی بھارت میں واقع ریاست میگھالیہ کے ضلع ایسٹ جینتیا ہلز کے ایک دور افتادہ علاقے میں غیرقانونی طور پر چلنے والی کوئلہ کان میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 18 کان کن ہلاک ہو گئے جبکہ 8 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گووا نائٹ کلب میں آتشزدگی: ایک اور مالک اجے گپتا گرفتار، ہلاکتیں 25 تک پہنچ گئیں

پولیس حکام کے مطابق دھماکے کے مقام سے اب تک 18 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ مقامی افسر منیش کمار نے بتایا کہ زخمیوں میں ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت کان میں موجود مزدوروں کی درست تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔

پولیس کے مطابق دھماکا جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے کے قریب ہوا۔ امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں اور خدشہ ہے کہ مزید افراد ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔

ریاستی پولیس کے سپرنٹنڈنٹ وکاس کمار نے میڈیا کو بتایا کہ حادثہ ریٹ ہول مائننگ کے باعث پیش آیا جو کہ نہایت خطرناک طریقہ کان کنی ہے۔ اس طریقے میں بارودی مواد کے ذریعے تنگ سرنگیں بنائی جاتی ہیں جن میں مزدور جھک کر کوئلہ نکالتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس خطرناک طریقہ کان کنی پر ریاست میں مکمل پابندی عائد ہے تاہم سماجی کارکنوں کے مطابق اس کے باوجود یہ عمل جاری ہے۔

کان ایک جنگلاتی علاقے میں واقع تھی جو ریاستی دارالحکومت شیلانگ سے تقریباً 72 کلومیٹر دور ہے۔ پولیس نے کان کے مالکان اور منتظمین کی شناخت تاحال نہیں کی تاہم نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔

مزید پڑھیے: بھارت میں ہندو یاتریوں کی بس حادثے کا شکار، 18 افراد ہلاک

میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ کونراڈ سنگما نے ایک بیان میں کہا کہ ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

وزیراعظم نریندر مودی نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 2 لاکھ بھارتی روپے اور زخمیوں کے لیے 50 ہزار روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق حال ہی میں کان کنوں سے ملاقات ہوئی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے بیشتر مزدور ہمسایہ ریاست آسام سے تعلق رکھتے تھے۔

یہ واقعہ حالیہ برسوں میں میگھالیہ میں کان کنی سے متعلق مہلک ترین حادثات میں سے ایک ہے۔ سال 2018 میں بھی ایک ریٹ ہول کان میں پانی بھر جانے سے کم از کم 15 مزدور پھنس گئے تھے، جن میں سے صرف 5 زندہ بچ سکے تھے جبکہ دیگر کو مردہ تصور کیا گیا تھا۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارت کی مختلف ریاستوں بشمول گجرات، جھاڑکھنڈ، آسام اور مغربی بنگال میں غیرقانونی کوئلہ کان کنی سے متعلق کئی ہلاکت خیز حادثات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارتی شہر اندور کے مندر میں حادثہ، 35 افراد ہلاک

حکام اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کوئلے کی بڑھتی ہوئی طلب، غربت، دور دراز علاقوں میں کمزور قانون نافذ کرنے کا نظام اور مبینہ سیاسی سرپرستی غیرمحفوظ اور غیرقانونی کان کنی کو فروغ دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت بھارت کوئلہ کان بھارتی ریاست میگھالیہ میں کان کن ہلاک شمال مشرقی بھارت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت بھارت کوئلہ کان شمال مشرقی بھارت کوئلہ کان کے مطابق افراد کے کان میں کان کنی

پڑھیں:

سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک

اسلام آباد: سیکیورٹی فورسز نے مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گردوں کو ہلاک اور متعدد کو گرفتار کرلیا. گرفتار شدگان میں سہولت کار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کامیابی سے جاری ہے. سیکیورٹی فورسز نے کارروائیاں تیز کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کردیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں مستونگ کےعلاقہ کھڈ کوچہ میں بروقت  کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد وں کو جہنم واصل کر دیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی سیکیورٹی فورسز کی اس کارروائی کے دوران متعدد دہشت گردوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا. گرفتار دہشت گردوں میں سہولت کار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کاروائی میں  دہشت گردوں کی متعدد کمین گاہیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں. کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا گیا۔آپریشن کے دوران علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے. حالیہ دنوں میں مستونگ کےعلاقہ کھڈ کوچہ میں  دہشتگردوں کی مذموم کاروائیوں کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن تیز کر دیے گئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک