مقبوضہ کشمیر میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ سنگین بحران کی شکل اختیار کرگیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں جبری گمشدگیوں کا المیہ شدت اختیار کر چکا ہے، جہاں ہزاروں افراد تاحال لاپتا ہیں۔ یہ صورتحال مقبوضہ علاقے میں قابض بھارتی حکام کے مجرمانہ چہرے کو بے نقاب کرتی ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار میں انکشاف ہوا ہے کہ سال 2023 کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں 7,151 افراد لاپتا رپورٹ ہوئے، جن میں سے 4,190 افراد اب تک تلاش نہیں کیے جا سکے۔
یہ اعتراف خود بھارت کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ، بندی سنجے کمار نے راجیہ سبھا کے رکن رندیپ سنگھ سرجے والا کے تحریری سوال کے جواب میں کیا، جو مودی حکومت کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہے۔
اصل تعداد کہیں زیادہ، خوف اور عسکریت کا راجاگرچہ سرکاری اعداد و شمار خود ہی تشویشناک ہیں، تاہم انسانی حقوق کے حلقوں کے مطابق لاپتا افراد کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ مسلسل عسکری موجودگی، خوف کی فضا، قانون کی کمزوری اور احتساب کے فقدان نے مقبوضہ کشمیر میں عام زندگی کو ایک ڈراؤنا خواب بنا دیا ہے۔
خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثراعداد و شمار کے مطابق، خواتین اور بچے لاپتا افراد کی بڑی تعداد میں شامل ہیں، جو شہری آبادی کی انتہائی کمزور حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ خاص طور پر بچوں کی گمشدگیوں میں مسلسل اضافہ ایک نہایت تشویشناک رجحان ہے۔
بچوں کے لاپتا ہونے کے کیسز
2020: 627 کیسز
2021: 723 کیسز
2022: 821 کیسز
2023: بدستور بلند سطح
لاپتا بچوں میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے، جس سے انسانی اسمگلنگ، جنسی استحصال اور دیگر سنگین جرائم کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
بازیابی کی شرح مایوس کنسرکاری ریکارڈ کے مطابق 2022 میں لاپتا ہونے والے 821 بچوں میں سے صرف 376 کو تلاش کیا جا سکا۔ 445 بچے تاحال لاپتا ہیں۔
یہ صورتحال ہر گزرتے سال کے ساتھ بدتر ہوتی جا رہی ہے اور ہزاروں خاندان کرب اور غیر یقینی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
مجموعی اعداد و شمار: بحران میں مسلسل اضافہمقبوضہ جموں و کشمیر میں لاپتا افراد کے مجموعی اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی واضح کرتے ہیں:
2020: 5,824 لاپتا، صرف 2,011 بازیاب
2021: 6,486 لاپتا، 2,526 بازیاب
2022: 6,983 لاپتا، 3,136 بازیاب
2023: 7,151 لاپتا، 4 ہزار سے زائد تاحال لاپتا
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید گھمبیر ہوتا جا رہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر؟ہزاروں افراد کی عدم بازیابی بھارت کے اس دعوے کی سختی سے تردید کرتی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات معمول پر ہیں۔ لاپتا افراد کی بڑھتی تعداد ایک انسانی المیے کی نشاندہی کرتی ہے، جس پر عالمی برادری کی فوری توجہ ناگزیر ہو چکی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لاپتا افراد کے مطابق افراد کی کرتی ہے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔