قطر نے کاروباری افراد اور اعلیٰ عہدوں پر فائز سینیئر ایگزیکٹوز کے لیے 10 سالہ طویل المدتی اقامہ پروگرام متعارف کرانے کی تیاری کرلی ہے۔ اس پروگرام کا اعلان ویب سمٹ قطر 2026 میں کیا گیا، جسے غیر ملکی ماہرین کے لیے ایک بڑی پالیسی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

کن افراد کو اہل سمجھا جائے گا؟

یہ ویزا صرف 2 مخصوص کیٹیگریز تک محدود ہوگا:

کاروباری افراد اور اسٹارٹ اپ بانی
ایسے افراد جو جدت پر مبنی یا اعلیٰ اثر رکھنے والا کاروبار شروع کر رہے ہوں اور جو قطر کے نجی شعبے کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہو۔ درخواست دہندگان کو قطر کے کسی منظور شدہ بزنس انکیوبیٹر، جیسے قطر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (QSTP) سے توثیق حاصل کرنا ہوگی۔

مزید پڑھیں: ایرانی حملے کا خدشہ، امریکا اور برطانیہ نے قطر سے فوجی دستے واپس بلانا شروع کر دیے

اس کے علاوہ، مالی حیثیت ثابت کرنے کے لیے گزشتہ 3 ماہ میں کم از کم 36,500 قطری ریال بینک بیلنس دکھانا لازمی ہوگا۔

سینئر ایگزیکٹوز

یہ سہولت چیئرمین، سی ای او، سی ایف او، سی او او، سی ٹی او اور ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے لیے ہوگی۔ درخواست دہندہ کے پاس کم از کم 5 سال کا سینئر مینجمنٹ تجربہ ہونا ضروری ہے۔

مقامی ملازمت کا معاہدہ لازمی ہوگا اور صرف مخصوص اداروں، جیسے قطر اسٹاک ایکسچینج میں درج کمپنیاں، مرکزی بینک کے تحت رجسٹرڈ بینک، انشورنس اور سرکاری اداروں کو خدمات دینے والی کنسلٹنگ فرمز، اہل ہوں گی۔

تنخواہ کی شرط بھی سخت رکھی گئی ہے۔ چیئرمین اور سی لیول عہدوں کے لیے کم از کم 50,000 قطری ریال ماہانہ جبکہ دیگر ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے لیے 80,000 قطری ریال ماہانہ آمدن ضروری ہوگی۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور قطر کے وزرائے خارجہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور عالمی و علاقائی امور پر اہم بات چیت

درخواست کیسے دی جا سکے گی؟

فی الحال یہ پروگرام تیاری کے مرحلے میں ہے اور حتمی لانچ تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم، معلومات Invest Qatar کے ذریعے جاری کر دی گئی ہیں۔ درخواست کے عمل میں آن لائن فارم، پیشہ ورانہ دستاویزات، مالی ریکارڈ، طبی معائنہ اور سکیورٹی کلیئرنس شامل ہوں گے۔ متوقع طور پر عمل مکمل ہونے میں 4 سے 8 ہفتے لگ سکتے ہیں۔

کیا یو اے ای میں رہنے والوں کو فائدہ ہوگا؟

ماہرین کے مطابق یہ ویزا یو اے ای ویزا کا متبادل نہیں بلکہ اضافی موقع ہے۔ یو اے ای میں مقیم کاروباری افراد اس اقامے کے ذریعے قطر میں دوسرا بزنس بیس قائم کر سکتے ہیں، جبکہ خطے میں کام کرنے والے سینئر ایگزیکٹوز کو پروجیکٹ بیسڈ ویزوں پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ پروگرام قطر کی اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت ملک طویل المدتی غیر ملکی رہائش کو فروغ دے رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

10 سالہ اقامہ Invest Qatar قطر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 10 سالہ اقامہ کے لیے

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر