WE News:
2026-06-02@20:44:31 GMT

ایران امریکا مذاکرات، عباس عراقچی مسقط پہنچ گئے

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

ایران امریکا مذاکرات، عباس عراقچی مسقط پہنچ گئے

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکی حکام کے ساتھ جوہری مذاکرات میں شرکت کے لیے ایک اعلیٰ سطحی سفارتی وفد کی قیادت کرتے ہوئے عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

مذاکرات آج بروز جمعہ منعقد ہوں گے، جس کی تصدیق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کی ہے۔

Iran's foreign minister heads to Muscat for nuclear talks with US – https://t.

co/AazsFhm9Jl https://t.co/UJIbjddMTt #Iran #NuclearTalks #ForeignMinister #AbbasAraqchi #Muscat pic.twitter.com/vTIsqoxIFD

— Iranian Diaspora Cooperation & Development Council (@Irandiasporaa) February 6, 2026

امریکی اور ایرانی حکام کے مطابق دونوں ممالک نے جمعہ کو عمان میں مذاکرات پر اتفاق کیا ہے، تاہم دونوں فریقین کے مؤقف میں واضح اختلافات برقرار ہیں۔

واشنگٹن کا اصرار ہے کہ مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام کو بھی شامل کیا جائے، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ صرف اپنے جوہری پروگرام پر ہی بات چیت کرے گا۔

مزید پڑھیں:

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق ایران ان مذاکرات میں مکمل اختیار کے ساتھ شریک ہوگا اور مقصد جوہری مسئلے پر ایک منصفانہ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور باوقار مفاہمت تک پہنچنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو امید ہے کہ امریکی فریق بھی اس عمل میں ذمہ داری، حقیقت پسندی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسماعیل بقائی امریکا ایران جوہری پروگرام عمان مذاکرات مسقط میزائل وزارت خارجہ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسماعیل بقائی امریکا ایران جوہری پروگرام مذاکرات

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟