امریکی وفد میں نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سمیت دیگر شامل ہیں۔ ادھر ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی آج صبح مسقط میں امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات میں شریک ہونگے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات آج عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوں گے۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور ایرانی حکام مذاکرات میں شرکت کے لیے عمان روانہ ہوگئے ہیں۔ امریکی وفد میں نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سمیت دیگر شامل ہیں۔ ادھر ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی آج صبح مسقط میں امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ ترجمان کے مطابق ایران جوہری مذاکرات میں پورے اختیار کے ساتھ منصفانہ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور باوقار مفاہمت تک پہنچنے کے مقصد سے شریک ہوگا۔

اس سے قبل امریکا، ایران جوہری مذاکرات جمعے کو ہی ترکیے میں شیڈول تھے، جس کے بعد ایران کی جانب سے مذاکرات استنبول سے عمان منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ایران نے مذاکرات کا مقام تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ مذاکرات میں علاقائی شراکت داروں کو شامل نہ کرنے اور بات چیت صرف جوہری معاملات تک محدود رکھنے کا بھی مطالبہ کیا تھا، تاہم ان مطالبات کو تسلیم یا رد کیے جانے سے متعلق فی الحال کوئی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جوہری مذاکرات مذاکرات میں کے ساتھ

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل