ایران امریکا مذاکرات آج ہونگے، امریکی و ایرانی حکام مسقط روانہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
امریکی وفد میں نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سمیت دیگر شامل ہیں۔ ادھر ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی آج صبح مسقط میں امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات میں شریک ہونگے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات آج عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوں گے۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور ایرانی حکام مذاکرات میں شرکت کے لیے عمان روانہ ہوگئے ہیں۔ امریکی وفد میں نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سمیت دیگر شامل ہیں۔ ادھر ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی آج صبح مسقط میں امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ ترجمان کے مطابق ایران جوہری مذاکرات میں پورے اختیار کے ساتھ منصفانہ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور باوقار مفاہمت تک پہنچنے کے مقصد سے شریک ہوگا۔
اس سے قبل امریکا، ایران جوہری مذاکرات جمعے کو ہی ترکیے میں شیڈول تھے، جس کے بعد ایران کی جانب سے مذاکرات استنبول سے عمان منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ایران نے مذاکرات کا مقام تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ مذاکرات میں علاقائی شراکت داروں کو شامل نہ کرنے اور بات چیت صرف جوہری معاملات تک محدود رکھنے کا بھی مطالبہ کیا تھا، تاہم ان مطالبات کو تسلیم یا رد کیے جانے سے متعلق فی الحال کوئی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جوہری مذاکرات مذاکرات میں کے ساتھ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔