روسی جنگی ہیلی کاپٹر تہران کی فضاؤں میں، ایران کو نیا عسکری سہارا؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
ایک امریکی ڈیفنس ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو روسی ساختہ Mi-28 Havoc جنگی ہیلی کاپٹروں کی فراہمی کے شواہد سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
ویب سائٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں روسی ساختہ Mi-28NE جنگی ہیلی کاپٹر کو ایرانی دارالحکومت تہران کے اوپر پرواز کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر بھی سامنے آئیں جن میں کم از کم ایک Mi-28NE ہیلی کاپٹر ایران میں موجود دکھایا گیا۔ تاہم ویب سائٹ نے واضح کیا ہے کہ ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی کہ یہ کہاں اور کب ریکارڈ کی گئی۔
ڈیفنس ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ ابتدائی تصاویر غالباً تہران کے مہرآباد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر واقع پارس ایروسپیس سروسز کمپنی کے ایک ہینگر میں لی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ 3 جنوری کو ایرانی صحافی محمد طاہری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر فارسی زبان میں ایران کی عسکری صلاحیت سے متعلق ایک پوسٹ شیئر کی تھی، جس کے ساتھ ڈیزرٹ کیموفلاج میں موجود Mi-28 ہیلی کاپٹر کی تصویر بھی شامل تھی۔
Mi-28 جنگی ہیلی کاپٹر 30 ملی میٹر خودکار توپ سے لیس ہوتا ہے اور اس پر مختلف ہتھیار نصب کیے جا سکتے ہیں، جن میں ٹینک شکن میزائل اور راکٹ شامل ہیں۔ اس ہیلی کاپٹر میں جدید سینسر سسٹم نصب ہوتا ہے، جس میں ماسٹ ریڈار اور سامنے کی جانب انفرا ریڈ کیمرہ شامل ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق ایران کو فراہم کیے جانے والے Mi-28 ہیلی کاپٹروں کی تعداد اور ان کی مکمل صلاحیت کے بارے میں ابھی واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں، جبکہ ویڈیو کے کم معیار کے باعث بھی کئی تفصیلات کی تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں Mi-28 ہیلی کاپٹر کی ممکنہ موجودگی روس کی جانب سے مزید ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی ترسیل کا اشارہ ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنوری کے دوران آن لائن فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا سے روس سے ایران تک Il-76 ٹرانسپورٹ طیاروں کی کم از کم پانچ پروازوں کا انکشاف ہوا تھا۔
Newly delivered Russian Mi-28NE attack helicopter was spotted over Tehran, Iran.
— Clash Report (@clashreport) February 3, 2026
اسرائیل کے ساتھ حالیہ 12 روزہ جنگ کے بعد ایران اپنے عسکری ذخائر کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اور Mi-28 ہیلی کاپٹروں کی ممکنہ فراہمی کو اسی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق مجموعی شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ کم از کم ایک Mi-28 ہیلی کاپٹر ایران پہنچ چکا ہے، جبکہ مزید تفصیلات آئندہ دنوں میں سامنے آنے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جنگی ہیلی کاپٹر Mi 28 ہیلی کاپٹر کے مطابق ویب سائٹ
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز