ایران نے امریکا کو مذاکرات عمان منتقل کرنے پر رضامند کر لیا،افزودہ یورینیم کو ایران سے باہر منتقل نہیں کرینگے ‘ علی شمخانی
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران/واشنگٹن /ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے امریکا کو مذاکرات ترکیہ سے عمان منتقل کرنے کے لیے رضا مند کر لیا جو کہ واشنگٹن کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں تہران کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایران کی درخواست پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بڑا فیصلہ کیا ہے، ایران نے دوطرفہ مذاکرات ترکیے سے عمان منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اب جمعہ کے روز عمان میں ہوں گے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اگر ایران مذاکرات کے لیے سامنے آنا چاہتا ہے تو وہ رواں ہفتے بھی ملنے کے لیے تیار ہیں۔امریکی وزیر خارجہ نے یاد دلایا کہ امریکا ہمیشہ ایران کے ساتھ مذاکرات اور مشاورت کے لیے آمادہ رہا ہے لیکن یہ مذاکرات صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود نہیں ہونے چاہئیں۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ مذاکرات صرف جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ تک ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، خطّے میں پراکسی گروہوں کی حمایت، اور ایرانی عوام کے ساتھ بے رحمانہ سلوک جیسے معاملات بھی زیرِ بحث آنے چاہئیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران کی واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیاری مکمل ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ انہوں نے وزیر خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ امریکا کے ساتھ ‘‘منصفانہ اور مساوی بنیادوں’’ پر مذاکرات کی کوشش کی جائے۔ادھر اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی ایلچی سے ملاقات میں کہا ہے کہ ایران پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور کسی بھی معاہدے میں اس کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں اور علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنا ضروری ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ مذاکرات ابتدا میں بالواسطہ ہوں گے اور صرف جوہری معاملات تک محدود رہیں گے۔ ایران نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم اس کے بدلے میں پابندیوں میں نرمی چاہتا ہے۔رپورٹس کے مطابق امریکا ان مذاکرات میں جوہری پروگرام کے علاوہ بیلسٹک میزائل اور خطے میں ایران سے منسلک گروہوں کی سرگرمیوں جیسے موضوعات بھی شامل کرنا چاہتا ہے۔ سفارتکاروں کے مطابق ایران علاقائی ممالک کی براہِ راست شرکت کے حق میں بھی نہیں ہے۔ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ رواں ہفتے متوقع بات چیت طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی ہوگی اور امریکا سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز میں تعینات امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان ہونے والی 2 جھڑپوں سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان تازہ جھڑپوں کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان متوقع سفارتی مذاکرات بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کے قریب آنے والے ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرون نے اشتعال انگیز انداز میں بحری جہاز کی جانب پرواز جاری رکھی حالانکہ امریکی افواج نے تناؤ کم کرنے کے اقدامات کیے تھے۔دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے بھی تصدیق کی کہ پاسدارانِ انقلاب کا ایک ڈرون عرب سمندر میں نگرانی اور فلم بندی کے مشن کے دوران لاپتا ہوگیا‘ ڈرون نے اپنی نگرانی کی فوٹیج کامیابی سے بیس تک منتقل کر دی تھی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی پرچم والا جہاز بغیر اجازت ایرانی پانیوں کی حدود میں داخل ہوا تھا، ایرانی کشتیوں کی جانب سے وارننگ ملنے کے بعد جہاز علاقے سے نکل گیا۔اسی روز چند گھنٹے بعد آبنائے ہرمز میں ایرانی پاسداران انقلاب کی دو گن بوٹس نے امریکی پرچم بردار کیمیکل ٹینکر ایم/وی اسٹینا امپیریٹو کے قریب تیز رفتاری سے 3 چکر لگائے اور ریڈیو کے ذریعے جہاز پر چڑھائی اور قبضے کی دھمکی دی۔ اس دوران ایک ایرانی ڈرون بھی امریکی پرچم بردار کیمیکل ٹینکر کے اوپر پرواز کرتا دیکھا گیا۔ جس سے صورت حال کشیدہ ہوگئی۔ امریکی بحریہ کے ڈسٹرائر یو ایس ایس مک فال نے فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے ٹینکر کو علاقے سے بحفاظت نکالا جبکہ امریکی فضائیہ نے فضائی معاونت فراہم کی۔ یہ دونوں واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جمعہ کو اہم سفارتی مذاکرات طے تھے جن کا مقصد ممکنہ فوجی تصادم کو روکنا تھا۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کے مطابق مذاکرات تاحال شیڈول کے مطابق ہیں، تاہم صدر ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر ریئر ایڈمرل علی شمخانی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کا معاملہ ’مکمل طور پر خارج از امکان‘ ہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق عرب میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں علی شمخانی کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت جنگ کے سائے میں زندگی گزار رہا ہے، تاہم اس تیاری کا مطلب تصادم کی خواہش نہیں بلکہ دشمنوں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں اور دباؤ کا جواب ہے۔علی شمخانی نے واضح کیا کہ مذاکرات صرف جوہری معاملے پر اور صرف امریکا کے ساتھ ممکن ہیں، بشرطیکہ 2 بنیادی شرائط پوری کی جائیں جو کہ دھمکیوں کا خاتمہ اور غیر حقیقت پسندانہ مطالبات سے دستبرداری ہیں۔ علی شمخانی نے کہا کہ ایران ملک کے اندر ہی یورینیم افزودگی کی سطح 60 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد تک لانے پر غور کر سکتا ہے لیکن یہ اقدام صرف ٹھوس سیاسی اور معاشی معاوضے کے بدلے ممکن ہوگا۔شمخانی نے خبردار کیا کہ آئندہ کسی بھی تصادم کی صورت میں جنگ ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی، ماضی کی محاذ آرائیوں میں اختیار کی گئی ضبط و تحمل کی پالیسی کو دوبارہ نہیں دہرایا جائے گا اور اگر خطے میں موجود اڈوں سے خطرات لاحق ہوئے تو ایران مناسب جواب دے گا۔اسرائیل کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے علی شمخانی نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو ایران جواب میں یقینی طور پر اسرائیل کو نشانہ بنائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، اُمید ہے یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ ماضی میں بھی ایران کو بات چیت کا موقع ملا لیکن وہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا جس کے بعد ہم نے ایران کے خلاف آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کیا‘ مجھے نہیں لگتا کہ ایران مڈنائٹ ہیمر جیسی کارروائی دوبارہ چاہے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترکیہ، اردن، عمان اور قطر کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عرب وزرائے خارجہ سے علاقائی صور تحال پر تبادلہ خیال کیا۔ ایران میں انٹرنیٹ کی جزوی بحالی کے باوجود سروس کو غیر مستحکم قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ ماہ شدید بندش کے بعد محققین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی اب بھی مسائل کا شکار ہے۔ نیٹ ورک انٹیلی جنس فرم کینٹک کے ڈائریکٹر آف انٹرنیٹ اینالیسس ڈگ میڈوری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت ایران میں کنیکٹیویٹی ’غیر مستحکم‘ ہے‘ مختلف اوقات میں مختلف صارفین کے لیے مختلف سروسز بلاک کی جاتی ہیں اور یہ صورتحال دن بھر بدلتی رہتی ہے۔ یہی بات انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس بھی رپورٹ کر رہا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کو استنبول سے عمان منتقل کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ یہ بات چیت ان مذاکرات کا تسلسل ہو جو عمان کی ثالثی میں ایران کے جوہری پروگرام پر شروع ہوئے تھے۔ یہ مذاکرات 12 روزہ جنگ سے قبل شروع کیے گئے تھے۔روسی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکی خدشات کو کم کرنے کے معاہدے کے تحت ایران سے یورینیم واپس لینے کی تجویز ابھی بھی زیر غور ہے‘ لیکن اب تہران کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ساتھ مذاکرات کہا ہے کہ ایران جوہری پروگرام علی شمخانی نے کا کہنا ہے کہ نے کہا ہے کہ یہ مذاکرات کہ امریکی امریکا کے کے درمیان ایران کے ایران نے کے مطابق رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔