ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان کا بھارت کیخلاف بائیکاٹ، سری لنکا کی فیصلے پر نظرثانی کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
سری لنکا نے پاکستان سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کیخلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سری لنکا کرکٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے باضابطہ طور پر درخواست کی ہے کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے۔
رپورٹ کے مطابق سری لنکا کرکٹ نے پی سی بی کو خط لکھ کر آگاہ کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہائی پروفائل میچ منسوخ ہونے کی صورت میں سری لنکا کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سری لنکن بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ میچ نہ صرف تجارتی لحاظ سے انتہائی اہم ہے بلکہ اس سے سیاحت کی مد میں متوقع آمدن بھی جڑی ہوئی ہے۔
سری لنکا کرکٹ نے پی سی بی پر زور دیا کہ دونوں بورڈز کے دیرینہ تعلقات، غیر معمولی حالات اور کرکٹ کے وسیع تر مفاد کو مدِنظر رکھا جائے۔
یہ پیشرفت حکومت پاکستان کے اس فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے جس کے تحت قومی ٹیم کو بھارت کے خلاف کھیلنے سے روک دیا گیا ہے۔
ادھر بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے معاملہ حل کرنے کے لیے پسِ پردہ رابطوں کا آغاز کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی سی سی کے نائب چیئرمین عمران خواجہ کو پی سی بی سے بات چیت اور ثالثی کا کردار سونپا گیا ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک روز قبل وفاقی کابینہ سے خطاب میں حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت سے نہ کھیلنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔