بھارت کو اسی کی زبان میں جواب دیں گے: وزیرِ اعظم کا بھارت کو دوٹوک پیغام
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھارت کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو اسی کی زبان میں جواب دیں گے۔
یوم یکجہتی کشمیر پر آزاد جموں کشمیر اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکسیز کے ذریعے دہشت گردی کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت جو محاذ کھولے گا، اس کو اسی محاذ پر کبھی نہ بھولنے والا جواب دیں گے، بھارت کے سازشیں ترک کرنے تک خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے پاس کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مظفر آباد میں دانش یونیورسٹی کا کیمپس تعمیر کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے جمع ہوئے ہیں، پاکستان کی جانب سے اظہار یکجہتی کے لیے یہاں حاضر ہوا ہوں، سابق صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود کی وفات پر غمزدہ ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، تحریک آزادی کے شہید کارکنوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، تاریخ گواہ ہے کشمیری اپنے بچوں کو قربان کر سکتے ہیں، لیکن اپنی آزادی قربان کرنے کو تیار نہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ کشمیری دنیا کو ہر روز سچائی کا آئینہ دکھا رہے ہیں، کشمیری ہر روز نعرہ لگاتے ہیں کہ کشمیر کبھی بھارت کا حصہ تھا اور نہ کبھی ہو گا، آزاد کشمیر میں کوئی بھی حکومت ہو، میرا فرض ہے آگے بڑھ کر تعاون کروں، ہمارے تعاون میں کسی قسم کی کمی نہیں آئے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شہباز شریف نے نے کہا کہ بھارت کو
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔