5 فروری کو پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا گیا، جس کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کو اجاگر کرنا ہے۔ اس دن کی مرکزی سرگرمیاں آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں منعقد ہوئیں، جہاں سرکاری و عوامی سطح پر مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔

مزید پڑھیں:’کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو‘

یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیر اہتمام مظفرآباد میں ایک بڑی مرکزی ریلی اور یکجہتی واک نکالی گئی، جس میں شہریوں، سیاسی کارکنوں، حریت رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکا نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حق میں نعرے بلند کیے اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کا مطالبہ کیا۔

واک کے دوران شرکا نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مذمتی پیغامات درج تھے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے کہا کہ یومِ یکجہتی کشمیر کشمیری عوام کی طویل جدوجہد اور قربانیوں کی یاددہانی کا دن ہے۔

حریت قیادت نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری صورتحال ایک سنگین انسانی المیہ ہے جس پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یومِ یکجہتی کشمیر کی سرگرمیاں محض ایک دن تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ آئندہ دنوں میں بھی مختلف پروگرامز، سیمینارز اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھا جائے گا۔

مزید پڑھیں: کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو بھرپور خراجِ تحسین، یومِ یکجہتیٔ کشمیر عقیدت و جوش سے منایا جارہا ہے

یومِ یکجہتی کشمیر اس عزم کی علامت ہے کہ کشمیر کا مسئلہ آج بھی ریاستی اور عوامی سطح پر اولین ترجیح ہے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

کشمیر کل جماعتی حریت کانفرنس مظفرآباد.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کل جماعتی حریت کانفرنس کل جماعتی حریت کانفرنس یکجہتی کشمیر کشمیری عوام

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ