سفارتخانہ پاکستان، انقرہ میں یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر ایک باضابطہ اور پُروقار تقریب منعقد کی گئی، جس کا مقصد کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ اور ان کی جائز جدوجہد کے ساتھ پاکستان کی غیرمتزلزل وابستگی کا اظہار تھا۔

تقریب میں پاکستان، ترکیہ پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے چیئرمین اور رکنِ پارلیمان  علی شاہین، ترک پارلیمان کے ارکان برہان قایا ترک اور مصطفیٰ قایا، سیسرک (SESRIC) کی ڈائریکٹر جنرل زہرا زُمرت، انقرہ کے نائب گورنر اسماعیل گل تیکن، ممتاز سابق سفارت کاروں، تزویراتی و عسکری ماہرین، نیز میڈیا، تھنک ٹینکس، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی شاہین نے حالیہ دہشت گرد حملوں میں پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں پاکستان کے ساتھ ترکیہ کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔

انہوں نے مسئلہ کشمیر کو انسانی حقوق، انصاف اور عالمی ضمیر کا ایک بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا منصفانہ اور پُرامن حل جنوبی ایشیا میں دیرپا امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی اصولی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

ترک پارلیمان کے رکن برہان قایا ترک نے یاد دلایا کہ کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت کا اقوامِ متحدہ نے وعدہ کیا تھا اور خود بھارتی قیادت نے بھی اسے تسلیم کیا تھا، مگر سات دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ وعدہ وفا نہ ہو سکا۔

دیگر مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ان کا تسلیم شدہ حقِ خودارادیت دیا جانا چاہیے۔

مقررین نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین اور مسلسل خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس دیرینہ تنازع کے منصفانہ حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔

اپنے اختتامی خطاب میں پاکستان کے سفیر برائے ترکیہ، ڈاکٹر یوسف جنید نے کشمیری کاز کے لیے ترکیہ کی مستقل، اصولی اور دوٹوک حمایت پر حکومت اور پاکستانی عوام کی جانب سے دلی تشکر کا اظہار کیا۔

انہوں نے جموں و کشمیر تنازع کے تاریخی پس منظر اور موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال، بالخصوص 5 اگست 2019 کے بھارتی یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کے بعد پیدا ہونے والے سنگین چیلنجز کی نشاندہی کی۔

سفیرِ پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے حالیہ فیصلے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کا کوئی بھی اقدام بین الاقوامی قانون اور معاہداتی ذمہ داریوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے، جس کے خطے میں امن، انسانی سلامتی اور ماحولیاتی استحکام پر دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر، عالمی برادری کے لیے انصاف، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا ایک اہم امتحان ہے اور کشمیری عوام کو ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت دلائے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کشمیری عوام میں پاکستان کا اظہار کے لیے

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ

صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔

حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت