ڈپٹی کمشنر بینظیرآباد کی زیرصدارت ایچ ایم خواجہ فلاورشو کی تیاریوں کا اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نواب شاہ (جسارت نیوز)ڈپٹی کمشنر شہید بینظیرآباد عبدالصمد نظامانی کی زیر صدارت شہید بینظیرآباد میں 13 فروری سے منعقد ہونے والا سالانہ فلاور شو، آرٹ، سائنس و ثقافتی نمائش 2026 کے انعقاد کی جاری تیاریوں کا جائزہ لینے کے سلسلے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ڈی سی آفس کے دربار ہال میں منعقد ہوا اجلاس میں نمائش کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا جن میں فلاور شو کے انتظامات، پارکس اور نمائش گاہوں کی تزئین و آرائش، پھولوں کی کاشت و نمائش، آرٹ اور سائنس کے تعلیمی اسٹالز، ثقافتی پروگرامز، فوڈ اسٹریٹس، بچوں اور فیملیز کے لیے تفریحی سرگرمیاں شامل ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے سیکیورٹی اداروں کو فول پروف سیکیورٹی پلان ترتیب دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ داخلی و خارجی راستوں پر موثر نگرانی، واک تھرو گیٹس، ٹریفک مینجمنٹ اور پارکنگ کے مناسب انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے میونسپل انتظامیہ کو صفائی ستھرائی، لائٹنگ، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات بروقت فراہم کرنے کی ہدایات بھی دیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بختاور کیڈٹ کالج سمیت دیگر سرکاری و نجی تعلیمی اداریآرٹ، سائنس اور ثقافتی اسٹالز لگائیں گے جبکہ جنگلات اور سوشل فاریسٹری کے محکمے شجرکاری اور ماحولیات سے متعلق خصوصی اسٹالز قائم کریں گے۔ شوگر ملز اور دیگر صنعتی اداروں کو بھی فلاور شو میں بھرپور شرکت کی ہدایت کی گئی ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ایچ ایم خواجہ سالانہ فلاور شو نہ صرف شہید بینظیرآباد کی ثقافتی پہچان ہے بلکہ یہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور عوام کو مثبت تفریح فراہم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ اس ایونٹ کو کامیاب بنائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈپٹی کمشنر فلاور شو
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :