پاک جاپان دوستی کے 74 سال: جاپانی سفیر نے اقتصادی و ثقافتی روابط کے فروغ کا روڈ میپ پیش کردیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
جاپان کے سفیر اکاماتسو شوئیچی کا کہنا ہے کہ جاپان اور پاکستان اپنے 74 سالہ دیرپا سفارتی تعلقات کا جشن منا رہے ہیں اور مستقبل میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا گیا ہے جس کا محور عوام کے باہمی رابطے اور لوگوں کے درمیان تعلقات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان کا پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے این جی اوز کو گرانٹ فراہم کرنے کا فیصلہ
جمعہ کے روز اپنی رہائش گاہ پر میڈیا نیٹ ورکنگ ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے سفیر نے پاکستان میں اپنے دورے کی روداد سناتے ہوئے کہا کہ نومبر 2024 میں پاکستان آنے کے بعد انہوں نے پنجاب اور سندھ کے صنعتی مراکز، موہنجو دڑو، ٹیکسلا اور شمالی علاقوں کے مختلف مقامات کا دورہ کیا جہاں پاکستان کی ثقافتی دولت اور مہمان نواز عوام نے انہیں بہت متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر دورہ ناقابل فراموش یادیں چھوڑ گیا اور پاکستان کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کی قدر میں اضافہ ہوا۔
عوام کا اعتماد اور محبتسفیر اکاماتسو نے مزید کہا کہ پاکستانی عوام کا جاپان کے لیے اعتماد اور محبت مجھے سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے اور یہ تعلق 74 سالہ سفارتی روابط، جاپان کی ODA سپورٹ، جاپانی کمپنیوں کی موجودگی اور جاپانی مصنوعات پر اعتماد کی بدولت مضبوط ہوا ہے۔
سال2026 کے لیے حکمت عملیسفیر نے سال 2026 اور اس کے بعد کے لیے اقتصادی توسیع، ٹیکنالوجی میں تعاون اور اوزاکا-کانسائی ایکسپو 2025 کی میراث کے حوالے سے اپنی ترجیحات بیان کیں۔
انہوں نے 3 بنیادی ستون اجاگر کیے جو جاپان پاکستان تعلقات کی بنیاد ہیں جن میں عوامی رابطوں کے ذریعے باہمی سمجھ اور تعاون میں اضافہ، اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنا، جاپانی کھانوں کو فروغ دینا اور نوجوانوں میں دلچسپی اور تعلیمی روابط شامل ہیں۔
مذید پڑھیے: جاپان کے تعاون سے فیصل آباد میں 7 واٹر فلٹریشن پلانٹس کا افتتاح
سفیر نے کہا کہ پاکستانی نوجوان جاپان میں زبردست دلچسپی لے رہے ہیں اور جاپانی زبان سیکھنے والے طلبہ کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور حال ہی میں ہر جاپانی زبان کے امتحان میں 1,000 سے زائد امیدوار شامل ہوئے۔
اقتصادی اور ٹیکنالوجی میں تعاونسفیر نے کہا کہ پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر تیزی سے بڑھ رہا ہے اور جاپانی کمپنیاں ماہر پروفیشنلز سے رابطہ قائم کر رہی ہیں۔ پاکستان میں تقریباً 80 جاپانی کمپنیاں سرگرم ہیں جو 100,000 سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہیں۔
تجارتی تعلقات اور سیمینارزاسلام آباد میں NUST کے ساتھ کامیاب اے آئی سیمینار اور ٹوکیو میں 8ویں جاپان پاکستان سرکاری و تجارتی مشترکہ ڈائیلاگ کے بعد سفیر نے اعلان کیا کہ 10 فروری کو جاپان پاکستان بزنس سیمینار منعقد کیا جائے گا، تاکہ پاکستانی کاروباری افراد کے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔
اوزاکا کانسائی ایکسپو 2025 میں پاکستان کی کامیابیسفیر نے بتایا کہ پاکستان کے پویلین نے اوزاکا کانسائی ایکسپو 2025 میں برونز ایوارڈ جیتا اور 18 لاکھ سے زائد زائرین کو اپنی طرف متوجہ کیا جس سے جاپانی عوام میں پاکستان کے تئیں قربت کا احساس پیدا ہوا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد: جاپان کے سفارتخانے میں جاپانی فلم کی خصوصی نمائش، فلم بینوں کی بڑی تعداد شریک
انہوں نے پاکستانی عوام کو مدعو کیا کہ وہ ستمبر اکتوبر 2026 میں ناگویا، آئچی پریفیچر میں ہونے والے 20ویں ایشیائی کھیلوں اور 5ویں ایشیائی پیرا گیمز میں شرکت کریں۔
جاپانی کھانوں کا فروغسفیر نے جاپانی کھانوں کی اہمیت پر زور دیا جو جاپان میں طویل عمر سے جڑے ہیں اور پاکستان میں بھی مقبول ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں اکثر نوجوان پاکستانیوں سے ملتا ہوں جو جاپانی کھانے پسند کرتے ہیں۔ سوشی اور ٹیمپورا تو مشہور ہیں لیکن ویگو گوشت بھی فینز بنا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کھانوں کے ذریعے باہمی سمجھ اور دوستی بڑھتی ہے۔
تعلیم اور تحقیق میں تعاونایونٹ میں NCAI کے چیئرمین اور NUST کے روبوٹکس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر یاسر ایاز نے جاپان کے ٹیم ورک، عاجزی، محنت، صفائی، وقت کی پابندی اور روایات کی قدر کو سراہا۔
انہوں نے بتایا کہ جاپانی یونیورسٹیوں اور کمپنیوں کے ساتھ مختلف پروجیکٹس جیسے AI ویل چیئرز اور فریلیٹی اسیسمنٹ سسٹم پر کام کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: جاپان نے ’بیرل رول‘ صلاحیت سے لیس نیا اینٹی شپ میزائل متعارف کرا دیا
ڈاکٹر یاسر ایاز نے جاپان کے شکر گزار ہونے کا اظہار کیا کہ انہوں نے پاکستانی طلبہ کو اسکالرشپ فراہم کی جس سے علم پر مبنی معیشت کو فروغ ملا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک جاپان دوستی پاکستان جاپان جاپان کے سفیر اکاماتسو شوئیچی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک جاپان دوستی پاکستان جاپان پاکستان میں کہ پاکستان میں تعاون نے کہا کہ جاپان کے انہوں نے سفیر نے کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔