غزہ کے لیے امداد کا نیا معرکا، 100 کشتیوں پرمشتمل عالمی فریڈم فلوٹیلا تیار
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260207-01-16
جوہانسبرگ/ رام اللہ (مانیٹرنگ ڈیسک) گلوبل صمود فلوٹیلا نے محصور فلسطینیوں تک امدادی سامان اور خوراک فراہم کرنے کے لیے غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی ایک اور بڑی کوشش کا اعلان کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس مقصد کے لیے 100 سے زاید کشتیوں اور ہزار سے زاید امدادی کارکنوں پر مشتمل ایک بڑا بحری قافلہ بحیرہ روم سے اگلے ماہ روانہ ہوگا۔ اس مشن میں شامل ایکٹوسٹس میں طبی کارکنان، جنگی جرائم کے تفتیش کار اور دیگر رضاکار بھی شامل ہوں گے جو امدادی سامان کے ساتھ ساتھ طبی سہولیات بھی فراہم کریں گے۔ یاد رہے کہ غزہ کے لیے فلوٹیلا کی کوششیں نئی نہیں ہیں بلکہ گزشتہ کئی برسوں سے اس طرح کے قافلے بنتے اور روانہ ہوتے آئے ہیں جو اسرائیل کے سمندری محاصرے کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور انسانی امداد پہنچانے کا مقصد رکھتے ہیں۔ پہلی بار 2008 میں فری غزہ مومنٹ کی دو کشتیوں نے اسرائیلی سمندری ناکا بندی کو عبور کر کے غزہ تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کامیاب کوشش کے بعد سے ایسے مزید متعدد بحری قافلے بنتے رہے ہیں۔ تاہم 2010 میں غزہ فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی فورسز نے حملہ کیا جس میں متعدد کارکنان ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد سے اسرائیلی جارحیت تھمی نہیں اور بار بار فلوٹیلاز کے امدادی قافلوں کو سمندر میں اسرائیلی بیڑوں نے تحویل میں لیا یا واپس جانے پر مجبور کیا۔ گزشتہ برس بھی گلوبل صمود فلوٹیلا نے کثیر تعداد میں جہازوں اور رضا کاروں کے ساتھ غزہ کا اسرائیلی ناکا توڑنے کی کوشش کی تھی۔ اسرائیلی بحریہ نے ان کشتیوں کو روکا اور کئی امدادی کارکنان کو حراست میں لے لیا تھا اور بعد ازاں انھیں ڈی پورٹ کیا گیا۔ فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف امدادی سامان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اس سے ایک عالمی شعور اور یکجہتی کا پیغام دیا جاتا ہے تاکہ محصور اور مدد کے محتاج فلسطینی عوام کے حق میں عالمی دباؤ بڑھایا جا سکے۔ خیال رہے کہ فلوٹیلا کی یہ کوششیں اس تناظر میں سامنے آتی ہیں کہ اسرائیل نے 2007 سے غزہ کی فضائی حدود اور سمندری راستوں کو بند کیا ہوا جس سے غزہ میں امداد پہنچانا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔