100 کشتیاں، ہزار ایکٹوسٹس؛ ایک اور غزہ امدادی قافلہ اسرائیلی ناکہ توڑنے کیلیے تیار
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
گلوبل صمود فلوٹیلا نے محصور فلسطینیوں تک امدادی سامان اور خوراک کی فراہم کرنے کے لیے اگلے ماہ غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی ایک اور بڑی کوشش کا اعلان کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس مقصد کے لیے 100 سے زائد کشتیوں اور ہزار سے زائد امدادی کارکنوں پر مشتمل ایک بڑا بحری قافلہ بحیرہ روم سے روانہ ہوگا۔
اس مشن میں شامل ایکٹوسٹس میں طبی کارکنان، جنگی جرائم کے تفتیش کار اور دیگر رضاکار بھی شامل ہوں گے جو امدادی سامان کے ساتھ ساتھ طبی سہولیات بھی فراہم کریں گے۔
یاد رہے کہ غزہ کے لیے فلوٹیلا کی کوششیں نئی نہیں ہیں بلکہ گزشتہ کئی برسوں سے اس طرح کے قافلے بنتے اور روانہ ہوتے آئے ہیں جو اسرائیل کے سمندری محاصرے کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور انسانی امداد پہنچانے کا مقصد رکھتے ہیں۔
پہلی بار 2008 میں فری غزہ مومنٹ کی دو کشتیوں نے اسرائیلی سمندری ناکہ بندی کو عبور کر کے غزہ تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔
اس کامیاب کوشش کے بعد سے ایسے مزید متعدد بحری قافلے بنتے رہے ہیں۔
تاہم 2010 میں غزہ فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی فورسز نے حملہ کیا جس میں متعدد کارکنان ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔
اس واقعے کے بعد سے اسرائیلی جارحی تھمی نہیں اور بار بار فلوٹیلاز کے امدادی قافلوں کو کو سمندر میں اسرائیلی بیڑوں نے حراست میں لیا یا واپس جانے پر مجبور کیا۔
گزشتہ برس بھی گلوبل صمود فلوٹیلا نے کثیر تعداد میں جہازوں اور رضا کاروں کے ساتھ غزہ کا اسرائیلی ناکہ توڑنے کی کوشش کی تھی۔
اسرائیلی بحریہ نے ان کشتیوں کو روکا اور کئی امدادی کارکنان کو حراست میں لے لیا تھا اور بعد ازاں انھیں ڈی پورٹ کیا گیا۔
فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف امدادی سامان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اس سے ایک عالمی شعور اور یکجہتی کا پیغام دیا جاتا ہے تاکہ محصور اور مدد کے محتاج فلسطینی عوام کے حق میں عالمی دباؤ بڑھایا جا سکے۔
خیال رہے کہ فلوٹیلا کی یہ کوششیں اس تناظر میں سامنے آتی ہیں کہ اسرائیل نے 2007 سے غزہ کی فضائی حدود اور سمندری راستوں کو بند کیا ہوا جس سے غزہ میں امداد پہنچانا ایک بڑا چیلنج بن گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔