غزہ کے لیے امداد کا نیا معرکہ، 100 کشتیوں کی عالمی فریڈم فلوٹیلا تیار
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
جوہانسبرگ/رام اللہ: غزہ کے لیے امداد لے جانے کی کوشش کرنے والے عالمی کارکنوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سال پہلے سے کہیں بڑی بحری امدادی فلوٹیلا روانہ کریں گے، جس میں 100 سے زائد کشتیاں اور ایک ہزار کے قریب طبی عملہ شامل ہوگا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق گزشتہ برس اکتوبر میں اسرائیل نے گلوبل صمود فلوٹیلا کی تقریباً 40 کشتیوں کو غزہ پہنچنے سے روک دیا تھا اور سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ سمیت 450 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔
بدھ کے روز جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن میں ہونے والے اجلاس میں فلوٹیلا کے منتظمین نے کہا کہ اس بار کوشش پہلے سے کہیں زیادہ بڑی اور منظم ہوگی۔ اجلاس میں نیلسن منڈیلا کے پوتے مانڈلا منڈیلا بھی شریک تھے، جو گزشتہ مشن کے دوران گرفتار کیے گئے تھے۔
مانڈلا منڈیلا کا کہنا تھا کہ یہ مہم انصاف اور انسانی وقار کے لیے ہے اور دنیا بھر کے لوگوں کو اس میں شامل ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اگر فلوٹیلا کو ایک بار پھر روکا گیا تب بھی یہ غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا مضبوط پیغام ہوگا۔
اسرائیلی حکام نے گزشتہ برس بھی اس مشن کو محض تشہیری اقدام قرار دیا تھا۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ غزہ میں امداد کی ترسیل نہیں روک رہا، تاہم فلسطینی حکام اور عالمی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں امداد اب بھی ناکافی ہے۔
اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فورسز اب غزہ کے 53 فیصد سے زائد علاقے پر کنٹرول رکھتی ہیں، جہاں سے شہریوں کو انخلا کے احکامات دیے گئے ہیں۔ غزہ کی بڑی آبادی ساحلی پٹی کے ایک تنگ علاقے میں عارضی خیموں اور تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہے۔
ادھر اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ یو این کے مطابق صرف جنوری میں تقریباً 700 فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے، جو اکتوبر 2023 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی آبادکار فلسطینی آبادی کو ہراساں کرنے، تشدد اور دھمکیوں کے ذریعے علاقوں سے بے دخل کر رہے ہیں، جس میں اسرائیلی حکومت اور فوج کی پشت پناہی بھی شامل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: غزہ کے
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور