سانحۂ گل پلازا، وزیرِ اعلیٰ سندھ کی 2 سے 3 ہفتوں میں دکانداروں کو امدادی رقم فراہم کرنے کی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ---فائل فوٹو
وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ سانحۂ گل پلازا میں دکانداروں کے نقصان کا ازالہ کریں گے، 2 سے 3 ہفتوں میں دکانداروں کو امدادی رقم فراہم کر دی جائے گی۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 21 ویں مائی کراچی نمائش کا افتتاح کر دیا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کورونا کی وباء کے دوران صرف 1 سال ایسا گزرا جب اس نمائش کا انعقاد نہیں ہو سکا۔
انہوں نے گل پلازا کے سانحے میں جاں بحق افراد کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازا میں جو لوگ شہید ہوئے ہیں اللّٰہ تعالیٰ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے، سانحے کے شہداء کے لواحقین کو امدادی رقم کی تقسیم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
کراچی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے معذور.
وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ کراچی چیمبر نے گل پلازا کے دکانداروں کی فہرست فراہم کی ہے، جبکہ متاثرہ دکانداروں کو فی کس 5،5 لاکھ روپے کی امداد دینا شروع کر دی گئی ہے، متاثرین کے کاروباری سامان کے نقصان کا تخمینہ لگا کر ادائیگیاں کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اس سال جون تک 10 ارب روپے صنعتی انفرااسٹرکچر پر خرچ کیے جائیں گے اور صنعتی ایسوسی ایشنز خود منصوبوں پر کام کریں، کابینہ نے میئر کراچی کو 18 ارب روپے دینے کی منظوری دی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سانحۂ گل پلازا میں جن لوگوں کا نقصان ہوا ہے، سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ ان کا ازالہ کیا جائے، ایسے سانحات سے محفوظ رہنے کے لیے ہر شخص کے تعاون کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کراچی چیمبر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہماری مدد کی، گل پلازا میں جن دکانداروں کا سامان جل گیا ہے، اس کا جائزہ لیا جائے گا اور 2 سے 3 ہفتوں میں دکانداروں کو امدادی رقم فراہم کر دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سندھ مراد علی شاہ میں دکانداروں کو امدادی رقم دکانداروں کو گل پلازا میں انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔