Express News:
2026-07-23@23:52:38 GMT

بلند و بانگ دعوؤں کا شور

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT

ملک میں بھاٹی گیٹ لاہور واقعہ اور سانحہ گل پلازہ کراچی کے حوالے سے پنجاب و سندھ حکومتوں پر تنقید ہو رہی ہے، البتہ سندھ حکومت کو پنجاب حکومت کی نسبت زیادہ تنقید کا سامنا ہے جسے پی پی رہنما اپوزیشن کی منفی سیاست قرار دے رہے ہیں۔ بہرحال شہر کراچی وفاق کی آمدنی کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

 ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی جو وفاقی وزیر بھی ہیں نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ جن کا کراچی سے تعلق نہیں وہ یہاں حکومت کر رہے ہیں اور جو یہ خدمت گورنر ہاؤس سندھ میں ہو رہی ہے وہ ہر سیاست سے بڑی ہے۔

جب کہ سندھ کی حکومت نے عملی طور پر کچھ کرنے کی بجائے سانحہ گل پلازہ پر صرف سیاست کی ہے اور سانحہ پر سیاست کرنے کا اپنے مخالفین پر غلط الزام لگا رہی ہے۔ 

وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی بارود کے ڈھیر پر بسا ہوا ہے۔ سانحات، وارداتوں اور حق تلفیوں کے بارود بچھائے گئے ہیں اور اب اس شہر کو ملبے کا ڈھیر بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم ہاؤس اور وزیر اعلیٰ سندھ کراچی کی داد رسی نہیں کریں گے تو سندھ کا گورنر ہاؤس سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی ہر ممکن مدد کر رہا ہے اور یہ گورنر ہاؤس اس شہر کی ضمانت اور امانت بن گیا ہے۔

انھوں نے اعلان کیا کہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والوں کو گورنر سندھ کی طرف سے پلاٹ دیے جائیں گے۔اس موقع پر گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ کو اب کراچی کی مقامی انتظامیہ کے وسائل اتنے نہیں کہ کسی بڑے سانحے سے لوگوں کو بچا سکے ، اس کی وجہ یہاں کی آمدنی کراچی پر خرچ نہیں کی جا رہی جو اس کا حق ہے۔

پیپلز پارٹی کے سوا ہر سیاسی جماعت نے سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت کے سربراہ اور میئر کراچی پر کڑی تنقید کی ہے اور سندھ حکومت کو سانحہ کا ذمے دار قرار دے کر دونوں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے جس پر وزیروں کا کہنا ہے کہ وہ سیاست کر رہے ہیں۔

لاہور میں بھاٹی گیٹ پر رات کے اندھیرے میں ایک خاتون اور ان کی بچی کے گٹر میں گرنے کا جو واقعہ ہوا ہے ایسے واقعات تو کراچی میں ہونا معمول ہے۔ کراچی شہر کے گٹروں، غیر محفوظ کھلے ہوئے گندے گٹروں میں گرنے سے ہلاکتوں کا ریکارڈ بن چکا ہے۔

کراچی کے شہری شاہراہوں، بازاروں اور اپنے گھروں کے دروازوں پر بھی محفوظ نہیں ہیں جہاں ڈاکو راج سالوں سے چلا آ رہا ہے مگر سندھ حکومت کھلے گٹروں اور نالوں کو شہریوں کے لیے محفوط بنا سکی ہے نہ اسٹریٹ کرائم پر قابو پا سکی ہے۔

سندھ حکومت خاص کر صحت کے مقابلے میں دوسرے صوبوں سے آگے ہونے کے مسلسل دعوے کرتی آ رہی ہے اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو تو دعویٰ کر چکے ہیں کہ سندھ کا ترقی میں صوبوں سے نہیں بلکہ دنیا سے مقابلہ ہے۔

کاش! صوبائی دارالحکومت کراچی میں ترقی پر توجہ دی ہوتی جہاں پیپلز پارٹی کی 17 سالہ حکومت ہے۔ کراچی کے فنڈز بھی سب سے زیادہ ہیں۔

کراچی کے اربوں روپے کے فنڈزکراچی کی ترقی اور شہریوں کے بنیادی مسائل کے حل پر خرچ نہیں کیے جاتے ۔کراچی میںکو اس کا حق نہیں دیا جاتا۔ اندرون سندھ بھی کوئی مثالی ترقی نہیں ہے۔

پنجاب میں مریم نواز کی حکومت کو ابھی دو سال ہی ہوئے ہیں اور لاہور سمیت پورے پنجاب کو بدلنے کے دعوے ہو رہے ہیں مگر صرف لاہور ہی نہیں بدل سکا ہے۔

بھاٹی گیٹ واقعہ بھی جاری ترقیاتی کاموں کے دوران متعلقہ لوگوں کی غفلت و لاپرواہی کے باعث پیش آیا ۔ سندھ کے مقابلے میں لاہور بھاٹی گیٹ واقعہ زیادہ اہم نہیں کیونکہ سانحہ گل پلازہ میں 80 افراد کی جھلسنے سے ہلاکتیں اور چالیس افراد کا پتا ہی نہ چلنے اور بروقت آگ پر قابو پانے میں ناکامی، ملک بھر میں بدنامی کا باعث بن گئی جس پر حکومت سے مستعفی ہونے اور کراچی کو وفاق یا فوج کے حوالے کیے جانے کے مطالبے سامنے آئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ سندھ حکومت بھاٹی گیٹ کراچی کے رہے ہیں رہی ہے ہے اور

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن