بلند و بانگ دعوؤں کا شور
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
ملک میں بھاٹی گیٹ لاہور واقعہ اور سانحہ گل پلازہ کراچی کے حوالے سے پنجاب و سندھ حکومتوں پر تنقید ہو رہی ہے، البتہ سندھ حکومت کو پنجاب حکومت کی نسبت زیادہ تنقید کا سامنا ہے جسے پی پی رہنما اپوزیشن کی منفی سیاست قرار دے رہے ہیں۔ بہرحال شہر کراچی وفاق کی آمدنی کا سب سے بڑا مرکز ہے۔
ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی جو وفاقی وزیر بھی ہیں نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ جن کا کراچی سے تعلق نہیں وہ یہاں حکومت کر رہے ہیں اور جو یہ خدمت گورنر ہاؤس سندھ میں ہو رہی ہے وہ ہر سیاست سے بڑی ہے۔
جب کہ سندھ کی حکومت نے عملی طور پر کچھ کرنے کی بجائے سانحہ گل پلازہ پر صرف سیاست کی ہے اور سانحہ پر سیاست کرنے کا اپنے مخالفین پر غلط الزام لگا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی بارود کے ڈھیر پر بسا ہوا ہے۔ سانحات، وارداتوں اور حق تلفیوں کے بارود بچھائے گئے ہیں اور اب اس شہر کو ملبے کا ڈھیر بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم ہاؤس اور وزیر اعلیٰ سندھ کراچی کی داد رسی نہیں کریں گے تو سندھ کا گورنر ہاؤس سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی ہر ممکن مدد کر رہا ہے اور یہ گورنر ہاؤس اس شہر کی ضمانت اور امانت بن گیا ہے۔
انھوں نے اعلان کیا کہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والوں کو گورنر سندھ کی طرف سے پلاٹ دیے جائیں گے۔اس موقع پر گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ کو اب کراچی کی مقامی انتظامیہ کے وسائل اتنے نہیں کہ کسی بڑے سانحے سے لوگوں کو بچا سکے ، اس کی وجہ یہاں کی آمدنی کراچی پر خرچ نہیں کی جا رہی جو اس کا حق ہے۔
پیپلز پارٹی کے سوا ہر سیاسی جماعت نے سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت کے سربراہ اور میئر کراچی پر کڑی تنقید کی ہے اور سندھ حکومت کو سانحہ کا ذمے دار قرار دے کر دونوں سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے جس پر وزیروں کا کہنا ہے کہ وہ سیاست کر رہے ہیں۔
لاہور میں بھاٹی گیٹ پر رات کے اندھیرے میں ایک خاتون اور ان کی بچی کے گٹر میں گرنے کا جو واقعہ ہوا ہے ایسے واقعات تو کراچی میں ہونا معمول ہے۔ کراچی شہر کے گٹروں، غیر محفوظ کھلے ہوئے گندے گٹروں میں گرنے سے ہلاکتوں کا ریکارڈ بن چکا ہے۔
کراچی کے شہری شاہراہوں، بازاروں اور اپنے گھروں کے دروازوں پر بھی محفوظ نہیں ہیں جہاں ڈاکو راج سالوں سے چلا آ رہا ہے مگر سندھ حکومت کھلے گٹروں اور نالوں کو شہریوں کے لیے محفوط بنا سکی ہے نہ اسٹریٹ کرائم پر قابو پا سکی ہے۔
سندھ حکومت خاص کر صحت کے مقابلے میں دوسرے صوبوں سے آگے ہونے کے مسلسل دعوے کرتی آ رہی ہے اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو تو دعویٰ کر چکے ہیں کہ سندھ کا ترقی میں صوبوں سے نہیں بلکہ دنیا سے مقابلہ ہے۔
کاش! صوبائی دارالحکومت کراچی میں ترقی پر توجہ دی ہوتی جہاں پیپلز پارٹی کی 17 سالہ حکومت ہے۔ کراچی کے فنڈز بھی سب سے زیادہ ہیں۔
کراچی کے اربوں روپے کے فنڈزکراچی کی ترقی اور شہریوں کے بنیادی مسائل کے حل پر خرچ نہیں کیے جاتے ۔کراچی میںکو اس کا حق نہیں دیا جاتا۔ اندرون سندھ بھی کوئی مثالی ترقی نہیں ہے۔
پنجاب میں مریم نواز کی حکومت کو ابھی دو سال ہی ہوئے ہیں اور لاہور سمیت پورے پنجاب کو بدلنے کے دعوے ہو رہے ہیں مگر صرف لاہور ہی نہیں بدل سکا ہے۔
بھاٹی گیٹ واقعہ بھی جاری ترقیاتی کاموں کے دوران متعلقہ لوگوں کی غفلت و لاپرواہی کے باعث پیش آیا ۔ سندھ کے مقابلے میں لاہور بھاٹی گیٹ واقعہ زیادہ اہم نہیں کیونکہ سانحہ گل پلازہ میں 80 افراد کی جھلسنے سے ہلاکتیں اور چالیس افراد کا پتا ہی نہ چلنے اور بروقت آگ پر قابو پانے میں ناکامی، ملک بھر میں بدنامی کا باعث بن گئی جس پر حکومت سے مستعفی ہونے اور کراچی کو وفاق یا فوج کے حوالے کیے جانے کے مطالبے سامنے آئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ سندھ حکومت بھاٹی گیٹ کراچی کے رہے ہیں رہی ہے ہے اور
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔