اسلام آباد واقعہ دلخراش ، قوم متحد ہوکر ملک کو محفوظ بنانے کی جدوجہد کرے‘ حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260207-01-15
نوشہرہ(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اسلام آباد میں دہشت گردی واقعہ کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے قوم کو پیغام دیا ہے کہ متحد ہوکر ملک کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنانے اور مسلط طبقات سے جان چھڑانے کی جدوجہد کرے۔نوشہرہ میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے اجتماع ارکان سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ملک میں جو ہو رہا ہے اس کے ذمے دار امریکا و بھارت اور حکمران طبقات کی پالیسیاں ہیں۔ پرویز مشرف نے ملک کو امریکی جنگ میں دھکیلا جس کے نتائج قوم 25 برس سے بھگت رہی تھی اور اب موجودہ حکمرانوں نے بھی ٹرمپ کی چاپلوسی شروع کردی۔ انہوں نے کہا کہ ملک پر قبضہ کا نظام چل رہا ہے، حکمران مرضی سے فیصلے کرتے ہیں، نوجوانوں کو اس فرسودہ نظام سے جان چھڑانے کی جدوجہد کو تیز کرنا ہوگا۔ اسلامی جمعیت طلبہ نوجوانوں کو اقامت دین کی جدوجہد کی طرف راغب کرے۔ طلبہ یونین کے انتخابات ہوجائیں تو اسلامی جمعیت طلبہ بڑی قوت کے طور پر سامنے آئے گی۔ ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان حسن بلال ہاشمی ، امیر جماعت اسلامی پختونخوا وسطی عبدالواسع ، اور امیر ضلع نوشہرہ حاجی عنایت الرحمن بھی اس موقع پر موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں کئی دہائیوں سے طلبہ یونین پر پابندی ہے، حکمران نہیں چاہتے کہ نوجوانوں کے ہاتھ میں اختیار آئے۔ انگریز کی عطاکردہ افسرشاہی اور جاگیردار طبقات عوام کو حقوق دینے کو تیار نہیں،نام نہاد بڑی سیاسی پارٹیاں مقتدرہ کی شراکت دار کے طور پر کام کرتی ہیں، ان پارٹیوں میں ایک ہی طرح کے لوگ ہیں، یہ مافیاز ہیں ، جنہوں نے قوم کے بچوں کو تعلیم تک سے محروم کررکھا ہے۔ جمہوریت کے دعوے دار ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے ہیں اور بعد میں فارم 47 کے تحت سیٹیں قبول کرلیتے ہیں۔ پنجاب ،سندھ اور وفاق میں دھاندلی کی پیدوار حکمران مسلط ہیں۔ یہ حکمران گڈ گورننس کا دعوے کرتے ہیں لیکن پونے 3 کروڑ بچوں کوا سکول نہیں بھیج سکتے۔ ملک کا تعلیمی نظام طبقاتی ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ شعبہ تعلیم اور نوجوانوں کو درپیش مسائل کو اجاگر کرے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ ملک کے نوجوانوں کی سب سے بڑی تحریک ہے، طلبہ یونین کے انتخابات ہوں تو یہ بنگلا دیش کی اسلامی جمعیت طلبہ کی طرح بڑی طاقت بن کر سامنے آئے گی۔ بنگلا دیش میں سالہا سال ظلم سہنے کے بعد اسلامی جمعیت طلبہ نے طلبہ یونین انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکمران سرکاری اسکولوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرکے تعلیم دینے کی ذمے داری سے ہی جان چھڑانا چاہتے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی سرکاری تعلیمی اداروں کی نج کاری کی بھرپور مخالفت کرے گی۔ دریں اثنا سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں امام بارگاہ کے اندر خود کش دھماکے میں 30 سے زایدافراد کی شہادت اور ڈیڑھ سو زخمی ہونے کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور دلخراش ہے، یہ دہشت گردی ہے جس کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام نظر آرہی ہے۔ حکومت کا کام صرف مذمت کرنا نہیں بلکہ پالیسی بنا کر دہشت گردی کے اسباب اور ان واقعات کی مستقل روک تھام ہے جس میں وہ ناکام ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعد اسلام آباد میں بھی دھماکے انتہائی تشویشناک ہیں۔ ہم متاثرہ خاندانوں اور لواحقین سے تعزیت کرتے ہیں اور دکھ و تکلیف کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ ہیں۔
نوشہرہ: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن مسلم ایجوکیشن کمپلیکس اضا خیل میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے سالانہ اجتماع ارکان سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلامی جمعیت طلبہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن طلبہ یونین کی جدوجہد
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔