بجلی 28 پیسے فی یونٹ مہنگی، نیپرا نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(صباح نیوز) عوام کے لیے بری خبر ہے کہ بجلی 28 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی گئی ہے جس کا نیپرا نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق دسمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی مہنگی کی گئی ہے اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ فروری کے بلوں میں وصول کیا جائے گا۔اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کے صارفین پر ہو گا لیکن لائف لائن صارفین اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز پر اضافے کا اطلاق نہیں ہو گا۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے)نے نیپرا میں ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 48 پیسے فی یونٹ بجلی مہنگی کرنے کی درخواست دی تھی۔سی سی پی اے نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ دسمبرمیں 8ارب 48کروڑ 70 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی جبکہ ڈسکوز کو 8ارب 20کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی۔ ماہ دسمبر میں بجلی کی فی یونٹ لاگت 9.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔