data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260207-08-6
کراچی( اسٹاف رپورٹر ) انسپکٹر جنرل پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ کچے کے علاقوں میں اب بھی 3 یا 4 مغوی ڈاکوؤں کے قبضے میں ہیں، تاہم ان کی حتمی تعداد کے بارے میں 100فیصد یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ آپریشن کی تکمیل کے بعد ہی مکمل صورتحال واضح ہو گی۔سینٹرل پولیس آفس کراچی میں کچے کے علاقوں میں یکم جنوری سے جاری آپریشن ’نجات مہران سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے بتایا کہ سندھ پولیس نے حکومتی پالیسی اور مکمل عزم کے تحت کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کی رٹ ختم کرنے کے لیے بھرپور اور منظم کارروائیاں کیں۔ انہوں نے کہا کہ عہدہ سنبھالتے ہی یہ عزم کیا گیا تھا کہ کچے کے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔آئی جی سندھ کے مطابق آپریشن نجات مہران کے دوران اب تک 113 پولیس مقابلے ہوئے، جن میں 27 نامی گرامی اور انتہائی مطلوب ڈاکو مارے جا چکے ہیں جبکہ 82 ڈاکو زخمی ہوئے۔ کارروائیوں کے دوران 123 کچے کے ڈاکوؤں کو گرفتار کیا گیا جبکہ 15 مغوی شہریوں کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ کچے کے ڈاکو تاوان کی رقم سے جدید اسلحہ خرید رہے تھے۔ ابتدا میں ڈاکو صرف اے کے 47 استعمال کرتے تھے، تاہم بعد ازاں انہوں نے بھاری اور جنگی ہتھیار حاصل کرنا شروع کر دیے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کچے کے ڈاکوؤں کے پاس پولیس سے زیادہ جدید اور مہلک اسلحہ موجود تھا، جس کے باعث پولیس کو شدید مشکلات اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈاکوو ں

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن