اب بھی 3 یا 4 مغوی کچے کے ڈاکوؤں کے قبضے میں ہیں، آئی جی سندھ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
کراچی:
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ کچے کےعلاقوں میں اب بھی 3 یا 4 مغوی ڈاکوؤں کے قبضے میں ہیں۔
آئی جی سندھ نے سینٹرل پولیس آفس میں کچے کےعلاقوں میں یکم جنوری سے جاری آپریشن ’نجات مہران‘ سے متعلق پریس کالنفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ مغویوں کے بارے میں سو فیصد نہیں کہا جاسکتا، آپریشن مکمل ہونے کے بعد صورتحال واضح ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ کچے میں جاری نجات مہران آپریشن کے دوران 113 مقابلوں میں 27 نامی گرامی ڈاکو مارے جا چکے ہیں جبکہ 82 ڈاکو زخمی ہوئے اور123 کچے کے ڈاکوؤں کو گرفتار کیا گیا، 15 مغوی شہریوں کو بازیاب کرایا گیا۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد اس بات کا عزم کیا کہ کچے کے علاقوں میں ڈاکووں کی رٹ کو مکمل طور پرختم کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کچے کے ڈاکو تاوان کی رقم سے اسلحہ خرید رہے تھے، ڈاکو پہلے صرف اے کے 47 خرید رہے تھے لیکن بعد میں جنگی ہتھیار بھی خریدنا شروع کر دیے اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کچے کے ڈاکوؤں کے پاس پولیس سے بہتر جدید ہتھیارتھے۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ ڈاکوؤں کے پاس ایسی گولیاں تھیں جو ہماری اے پی سی کی چادر کو پھاڑ دیا کرتی تھیں جس سے ہمیں نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا، کچے کے علاقوں میں جاری آپریشن میں آج ڈاکو مارے جا رہے ہیں اور حکومت سندھ کی پالیسی کے تحت خود کو سرینڈر بھی کر رہے ہیں۔
آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ ڈاکو مسلسل حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے تھے، ہماری کوشش تھی کہ ڈاکوؤں کو منہ توڑ جواب دینا ہے، حکومت کے حوصلے اور ساتھ دینے سے سندھ پولیس کی کمر مزید مضبوط ہوئی، پولیس کو لیڈر شپ کی ضرورت تھی اور انہیں دی گئی ہے آپ دیکھیں گے اب سب ڈاکو قانون کی گرفت میں آئیں گے اورہم انہیں عدالتوں میں پیش کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کچے کے ڈاکو ڈاکوو ں کے
پڑھیں:
مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔