آپریشن ’نجات مہران‘ 27 نامی گرامی ڈاکو ہلاک‘ 15 مغوی بازیاب
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی( اسٹاف رپورٹر ) انسپکٹر جنرل پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ کچے کے علاقوں میں اب بھی 3 یا 4 مغوی ڈاکوؤں کے قبضے میں ہیں، تاہم ان کی حتمی تعداد کے بارے میں 100فیصد یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ آپریشن کی تکمیل کے بعد ہی مکمل صورتحال واضح ہو گی۔سینٹرل پولیس آفس کراچی میں کچے کے علاقوں میں یکم جنوری سے جاری آپریشن ’نجات مہران سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے بتایا کہ سندھ پولیس نے حکومتی پالیسی اور مکمل عزم کے تحت کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کی رٹ ختم کرنے کے لیے بھرپور اور منظم کارروائیاں کیں۔ انہوں نے کہا کہ عہدہ سنبھالتے ہی یہ عزم کیا گیا تھا کہ کچے کے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔آئی جی سندھ کے مطابق آپریشن نجات مہران کے دوران اب تک 113 پولیس مقابلے ہوئے، جن میں 27 نامی گرامی اور انتہائی مطلوب ڈاکو مارے جا چکے ہیں جبکہ 82 ڈاکو زخمی ہوئے۔ کارروائیوں کے دوران 123 کچے کے ڈاکوؤں کو گرفتار کیا گیا جبکہ 15 مغوی شہریوں کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ کچے کے ڈاکو تاوان کی رقم سے جدید اسلحہ خرید رہے تھے۔ ابتدا میں ڈاکو صرف اے کے 47 استعمال کرتے تھے، تاہم بعد ازاں انہوں نے بھاری اور جنگی ہتھیار حاصل کرنا شروع کر دیے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کچے کے ڈاکوؤں کے پاس پولیس سے زیادہ جدید اور مہلک اسلحہ موجود تھا، جس کے باعث پولیس کو شدید مشکلات اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکوو ں
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔