پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤڈالا جارہا ہے، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دبائو ڈالا جا رہا ہے مگر پولیس پر فخر ہے کہ یہ کسی دباؤ میں نہیں آ رہی۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ جو لوگ پولیس پر دباؤ ڈال رہے ہیں وہ ایسا نہ کریں اور پولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں، ہم نے کے پی کے پولیس کو ہرقسم کی سیاسی مداخلت سے دور رکھا ہے، پولیس میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں، بند کمروں میں فیصلوں سے ہمیں بہت نقصانات ہوئے، غلط پالیسیوں کی وجہ سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا۔ وزیر اعلیٰ کے پی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا پولیس 22 سال سے قربانیاں دے رہی ہے ، ہماری پولیس کی بے توقیری کی گئی، ہم جو کر رہے ہیں صدق دل سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اپنی پولیس پر فخر ہے، پولیس نے جو مانگا میں نے انکار نہیں کیا، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ ہماری کان اور آنکھ ہیں‘ سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو جدید سہولیات سے آراستہ کر رہے ہیں‘ ضم اضلاع سمیت پورے صوبے میں سیف سٹی پروگرام شروع کرنے جارہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔