بلوچستان کو بڑی محنت سے جنگ میں جھونکا جارہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260207-03-3
بلوچستان کا نام آتے ہی ٹریلین آف ڈالرز کی وہ قیمتی معدنیات تصور میں آتی ہیں جو زیر زمین پائی جاتی ہیں۔ اس کے بعد وہ دہشت گرد ذہن پر حملہ کردیتے ہیں جو بقول وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی پانچ سے چھے ہزار ہیں اور بقول وزیر داخلہ ایک ایس ایچ او کی مار ہیں لیکن آٹھ دس روزانہ مارے جانے کے باوجود ختم ہونے میں نہیں آرہے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو برسرزمین ہیں، وفاق سے اور اس کے جھوٹوں سے خفا ہیں اور بقول وزیر دفاع خواجہ آصف ملک دشمن عناصر کے بلوچستان کی پسماندگی اور محرومی کے بیانیے سے حالت ورغلاہٹ میں ہیں، سارے فسانے میں، ان کا ذکر! ڈھونڈو تو جانیں۔
خواجہ آصف کے مطابق جبری گمشدگی کے بیانیے میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہ کوئی قوم پرست تحریک نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد اور اسمگلروں کا گٹھ جوڑ ہے جن کی روزانہ کی چار ارب روپے منافع کی اسمگلنگ حکومت نے روک دی ہے۔ خواجہ آصف کی ہمت ہے کہ قومی اسمبلی کے ایوان میں دس پندہ افراد کی موجودگی میں بھی ایسی دھواں دار تقریر کرلیتے ہیں لیکن ان کی چار ارب روپے روزانہ کے منافع کی اسمگلنگ کی بات بہت اہم ہے۔
چار ارب روپے روزانہ یعنی مہینے کے 120 ارب روپے اور سال کے 1440 روپے۔ ایک دن کے چار ارب روپے کے منافع میں 9 صفر آتے ہیں، سال کے منافع میں کتنے صفر آئیں گے؟ تیل کی کل مالیت اور مقدار کتنی ہوگی جو ایران سے تقریباً 40 سے 60 روپے فی لیٹر خریدا جاتا تھا اور کراچی میں 200 روپے فی لیٹر بیچا جاتا تھا۔ حالیہ کارروائیوں سے پہلے 10 سے 16 ملین لیٹرز اور حالیہ کارروائیوں کے بعد مہنگا ہونے کی صورت میں 5 سے 6 ملین لیٹر بنتا ہے۔ تصور کیجیے اتنا تیل روزانہ سرحد پار کرتا ہے اور پورے پاکستان میں تقسیم بھی ہوجاتا ہے۔ کتنا منظم نیٹ ورک ہوگا؟ ہزار ہا لیٹرز تیل منتقل کرنے میں کتنے ہزار افراد اور ٹرکس روزانہ اِدھر سے اُدھر منتقل ہوتے ہوں گے؟؟
تو پھر دہشت گردوں کا 31 جنوری کی صبح 12 مقامات پر حملہ آور ہونا کون سی بڑی بات ہے۔ 200 یا 300 دہشت گرد کیا ہزاروں دہشت گرد بھی صوبے میں داخل ہو جائیں تو حیرت کیسی؟ حکومتی رٹ ’’کہاں ہے، کیسی ہے، کدھر ہے‘‘ حکومت کی پالیسی؟ لائحہ عمل؟ اور گور ننس کی بات!! کیسے کریں اور کس سے کریں؟ اور اس پر حیرت کا کیا اظہار کریں کہ ایک ایک دہشت گرد کے پاس 40 لاکھ روپے کا اسلحہ تھا!! اسمگلنگ کی اتنی بڑی واردات معمول ہو تو پھر بات کرنے کے لیے کچھ رہ جاتا ہے؟
بھارت، اسرائیل اور افغان بھائیوں کو بی ایل اے کے دہشت گردوں کی فنڈنگ کرنے اور رقوم مہیا کرنے کی کیا ضرورت باقی رہی ہے؟ ہم خود اسمگلنگ کے ذریعے دہشت گردوں کو وسائل مہیا کررہے ہیں۔ کیا ریاست کے تعاون کے بغیر ایسا ممکن ہے؟ ایسے میں وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی چھے ماہ پہلے سرکاری ملازموں کودی گئی یہ چتائونی بہت معنی خیز ہو جاتی ہے کہ وہ فیصلہ کرلیں کہ ریاست کے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ ہیں۔ ان حالات میں، اس گٹھ جوڑ میں، گورننس کی اس حالت میں، کب تک دہشت گردوں کے ساتھ لڑا جاسکتا ہے؟
بلوچستان کی جنگ ہفتوں یا مہینوں کی بات نہیں ہے۔ یہ ایک طویل مدت جنگ ہے۔ دو تین دن میں دوسو دہشت گردوں کی ہلاکت صوبے کے امن وامان کی لرزتی ہوئی صورتحال کی عکاس ہے۔ 31 جنوری کی صبح سے بارہ مقامات پر ہونے والے منظم حملے!! یہ اچانک لگنے والی آگ نہیں ہے بلکہ ایک ایسے آتش فشاں کا پھٹنا ہے جو مدت سے دہک رہا ہے۔ دہشت گردوں کی آخری سانسوں اور ان کی طرف بڑھتی ہوئی گولی کے درمیانی وقفے میں کسی کے پاس سوچنے کی مہلت ہے کہ بچے مسلح افراد کے ساتھ سیلفیاں کیوں بنوارہے تھے؟
بلوچستان اس نظام کا نوحہ ہے جس میں کئی دہائیوں سے قومی سلامتی کا بیانیہ انسانی المیے پر حاوی ہوگیا ہے۔ اس المیے میں بھارت اور اسرائیل ملوث ہیں اور اب افغان بھائی بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ان الزامات میں کتنی حقیقت ہے کتنا فسانہ؟ کون کہاں کہاں اپنے کارڈز کھیل رہا ہے؟ قومی سلامتی کے عہدیدار یقینا اس سے واقف ہوں گے اور اس سے اچھی طرح نمٹ بھی رہے ہوں گے۔ لیکن کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک نظر گھر کے اندر بھی ڈال لینی چاہیے۔ ماہ رنگ بلوچ کس جرم میں قید میں ڈال دی گئی ہیں اور کب تک اندر رہیں گی؟ کون جواب دے گا؟ وہ بلوچ مائیں بہنیں اور بیٹیاں جو اپنے پیاروں کو تلاش کررہی ہیں ان سے کیسے صرف نظر کیا جاسکتا ہے؟ ہمیں پہلے بڑے تحمل سے اور دردمندی سے گھرکے اندر کے مسائل نہ صرف دیکھنے ہوں گے بلکہ انہیں ٹھیک بھی کرنا ہوگا۔
بلوچستان میں زیرزمین چھپے ہوئے خزانے سب کو نظر آتے ہیں لیکن برسرزمین انتہا درجے کی غربت کسی کو نظر نہیں آتی۔ خواجہ آصف فرماتے ہیں بلوچستان میں سب سے زیادہ ائر پورٹ ہیں۔ 1596 اسکول، 12 یونیورسٹیاں، پانچ میڈیکل کالج، 145 دیگر کالج، 13 کیڈٹ کالج، 21 ٹیکنیکل ادارے، 54 اسپتال، چار امراضِ قلب کے مراکز، 24 ڈائیلیسس سینٹر، 756 بنیادی صحت مراکز اور 841 ڈسپنسریاں ہیں۔ درست ہے یقینا ایسا ہی ہوگا لیکن کیا ان سب اداروں سے غریبوں کو روزانہ پیٹ بھر روٹی مل سکتی ہے؟ آبادی کے بڑے حصے کو روزگار مل سکتا ہے؟ عدل وانصاف مل سکتا ہے؟ گم شدہ باپ بھائی اور بیٹے مل سکتے ہیں؟ کچھ تو خرابی ہے جو لوگ بگڑے ہوئے ہیں، غصہ میں ہیں اور برسر احتجاج ہیں۔
بلوچستان میں نصف صدی سے خود مختاری کے مطالبے، وسائل کی منصفانہ تقسیم، سیاسی شناخت اور نسلی تشخص کے تحفظ کی بنیاد پر وقتاً فوقتاً بغاوتیں، علٰیحدگی پسند تحریکیں، قوم پرست تحریکیں جنم لیتی رہی ہیں۔ صوبہ اب زیادہ غیر مستحکم ہوتا جارہا ہے، زندگی بہت زیادہ غیر محفوظ ہوچکی ہے۔ یہاں پیچیدہ طاقتیں جیو پالیٹیکل ایجنڈے کی تکمیل میں سرگرم ہیں۔ امریکا ہر اس خطے میں شورش بپا کررہا ہے جہاں قیمتی معدنیات ہیں۔ افغانستان کی دہائیوں پر پھیلی جنگ کے بعد لگتا ہے اب بلوچستان خانہ جنگی، تشدد اور انتشار کا نیا مرکز بنایا جارہا ہے۔
خبریں ہیں کہ امریکی سی آئی اے نے نئے گیم پلان ترتیب دیے ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور خلیج کی دوسری ریاستیں ایران دشمنی میں امریکا کے ساتھ ہیں، بلوچستان کا علاقہ حکومت پاکستان کی رٹ سے نکال کر اور سیستان میں شورش برپا کرکے، پورے خطے کو ایران پر دبائو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے؟
اس تمام شورش کا حتمی نشانہ چین ہے۔ چین کو اس خطے میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت (سی پیک جس کا حصہ ہے) جو رسائی حاصل ہورہی ہے۔ اس رسائی کو محدود کرنا ہے۔ 2015 میں سی پیک کے حوالے سے گوادر کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کی گئی تھیں کہ چین پاکستان اکنامک کاریڈور کے ماتھے کا جھومر گوادر ہے، یہاں بندرگاہ میں توسیع ہوگی، فری انڈسٹریل زون بنے گا لیکن آج عملی صورتحال یہ ہے کہ گوادر میں اُلّو بول رہے ہیں۔ پاکستان کی عظیم افواج کو بلوچستان میں ایک بڑی جنگ کا سامنا ہے جس میں امریکا، اسرائیل، بھارت، افغانستان اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ نہ جانے کون کون شامل ہے۔ بلوچستان کو بڑی محنت سے جنگ میں جھونکا جارہا ہے۔ بلوچستان کے عوام کی شمولیت کے بغیر یہ جنگ جیتنا بہت مشکل ہے۔ ہمیں ان کے دل جیتنا ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلوچستان میں چار ارب روپے خواجہ ا صف جارہا ہے رہے ہیں ہیں اور کے ساتھ اور اس ہوں گے ہے ہیں
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔