Jasarat News:
2026-06-02@22:26:12 GMT

امریکا اور یورپ کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریاں

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دنیا ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں روایتی اتحادی رشتے کمزور، عالمی اعتماد متزلزل اور طاقت کے توازن کی نئی لکیریں کھنچتی دکھائی دے رہی ہیں۔ امریکا اور یورپ کے درمیان حالیہ دنوں میں روس، یوکرین جنگ اور بالخصوص امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو ہتھیانے کی خواہش کے حوالے سے ابھرنے والی کشیدگی محض ایک سفارتی اختلاف نہیں بلکہ عالمی سیاست، دفاعی اتحاد، تجارتی مفادات اور جغرافیائی حکمت ِ عملی میں گہری تبدیلیوں کا مظہر ہے۔ اسی تسلسل میں افغانستان جنگ کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع بیانات نے اس کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے اور ٹرانس اٹلانٹک اتحاد (ناٹو) کے مستقبل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ برطانوی وزیر ِاعظم کیئر اسٹارمر کی جانب سے صدر ٹرمپ کے افغانستان سے متعلق ریمارکس پر سخت ردِعمل دراصل یورپ کی اس اجتماعی ناراضی کی عکاسی کرتا ہے جو خود کو امریکی بیانیے میں نظر انداز یا کم تر محسوس کر رہی ہے۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ یورپی افواج افغانستان میں فرنٹ لائن سے پیچھے رہیں نہ صرف تاریخی حقائق کے منافی سمجھا گیا بلکہ ان ہزاروں یورپی فوجیوں کی قربانیوں کی توہین بھی قرار پایا جنہوں نے اس جنگ میں اپنی جانیں نچھاور کیں۔

افغانستان کی جنگ جدید تاریخ کی طویل اور مہنگی عسکری مہمات میں شمار ہوتی ہے جس میں امریکا کے ساتھ ساتھ برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، ڈنمارک اور دیگر کئی ممالک نے بھرپور کردار ادا کیا۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس جنگ میں برطانیہ کے 457 فوجی، کینیڈا کے 150 سے زائد اہلکار، فرانس کے 90 فوجی، ڈنمارک کے 44 سپاہی اور امریکا کے 2,400 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے۔ مگر ان تمام اعداد و شمار سے کہیں زیادہ دلخراش حقیقت افغان عوام کی قربانی ہے، جن میں کم از کم 46 ہزار سے زائد شہری براہِ راست جنگ کی نذر ہوئے جب کہ بھوک، بیماری، بے گھر ہونے اور بنیادی سہولتوں کی کمی سے ہونے والی اموات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہ جنگ صرف عسکری ناکامی نہیں بلکہ انسانی، سماجی اور اخلاقی بحران کی ایک علامت بھی ہے۔ افغانستان میں انفرا اسٹرکچر تباہ ہوا، نسلیں بے گھر ہوئیں اور پورا خطہ طویل المدتی عدم استحکام کا شکار ہو گیا۔ یہ وہ بد قسمت جنگ تھی جس میں امریکا نے دوسری عالمی جنگ میں ایٹم بم کے استعمال کے بعد پہلی دفعہ ایک ایسا مہلک بم استعمال کیا جسے تمام بموں کی ماں قراردیا گیا لہٰذا ایسے میں اگر کوئی عالمی رہنما اپنے ہی اتحادی افواج کے کردار کو کم تر ظاہر کرے تو اسے ان اتحادی ممالک کی قربانیوں کی اجتماعی توہین ہی قرار دیا جائے گا۔

ٹرمپ کے بیانات پر یورپی رہنماؤں کا شدید ردعمل دراصل اس بڑھتی ہوئی بے اعتمادی کا اظہار ہے جو گزشتہ چند برسوں سے امریکا اور یورپ کے تعلقات میں سرایت کر چکی ہے۔ ناٹو کے مستقبل پر شکوک، یورپی دفاعی اخراجات پر امریکی دباؤ، تجارتی محصولات کی دھمکیاں، گرین لینڈ جیسے تنازعات اور اقتصادی پالیسیوں میں سختی نے یورپی ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا امریکا اب بھی وہی قابل ِ اعتماد اتحادی ہے یا نہیں۔ وائٹ ہاؤس کا یہ مؤقف کہ امریکا نے ناٹو میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں ایک حد تک درست ہو سکتا ہے، مگر عالمی اتحاد صرف قربانیوں کے حساب سے نہیں بلکہ باہمی احترام، اعتماد اور شراکت داری کے اصولوں پر استوار ہوتے ہیں۔ اگر اتحادیوں کو بار بار کم تر ظاہر کیا جائے تو اتحاد کی بنیادوں کاکمزور ہونا فطری امر بن جاتا ہے۔ اسی بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں بھارت اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والا تاریخی تجارتی معاہدہ ایک نہایت اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ معاہدہ محض اقتصادی نہیں بلکہ ایک اسٹرٹیجک پیغام بھی ہے کہ دنیا اب امریکا پر مکمل انحصار کے بجائے متبادل راستے تلاش کر رہی ہے۔ تقریباً دو دہائیوں کے مذاکرات کے بعد طے پانے والا یہ معاہدہ عالمی تجارت کے مستقبل اور طاقت کے نئے محور کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے تجارتی محصولات کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا، اتحادی ممالک پر دباؤ ڈالنا اور غیر متوقع فیصلے کرنا دراصل عالمی معیشت میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ بھارت پر روسی تیل خریدنے کے سبب عائد کیے گئے ٹیرف ہوں یا یورپی ممالک کو تجارتی پابندیوں کی دھمکیاںان سب اقدامات نے اتحادیوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ امریکا کے ساتھ وابستگی اب پہلے جیسی محفوظ نہیں رہی۔

اسی پس منظر میں بھارت اور یورپی یونین کا آزاد تجارتی معاہدہ امریکا کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اگر وہ معاشی طاقت کو دباؤ کے طور پر استعمال کرے گا تو دیگر عالمی قوتیں باہمی تعاون کے ذریعے متبادل بلاک تشکیل دے سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اثر و رسوخ کے مقابلے میں بھی ایک توازن قائم کرنے کی کوشش ہے جبکہ بھارت کے لیے یہ عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع ہے۔ ادھر برطانیہ کی جانب سے چین کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش بھی اسی عالمی رجحان کا حصہ ہے۔ برطانوی وزیر ِاعظم کیئر اسٹارمر کا چین کا دورہ، صدر شی جن پنگ سے ملاقات اور ویزا فری سفر کی سہولت جیسے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مغربی ممالک اب امریکا کے یکطرفہ اثر سے نکل کر زیادہ متوازن خارجہ پالیسی اپنانا چاہتے ہیں۔ چین اور برطانیہ کے درمیان بڑھتا ہوا تجارتی تعاون، ویزا سہولت اور اقتصادی شراکت داری نہ صرف برطانوی معیشت کے لیے نئے مواقع فراہم کرے گی بلکہ عالمی سفارت کاری میں ایک نئے باب کا آغاز بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اسٹارمر کا یہ کہنا کہ چین کے ساتھ پختہ اور بامعنی تعلقات قائم کرنا قومی مفاد میں ہے اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ عالمی طاقتوں کی صف بندی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ کینیڈا، یورپی یونین، بھارت اور دیگر ممالک کی حالیہ سرگرمیاں اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ دنیا ایک کثیر القطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں امریکا کی بالادستی کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکا اپنی خارجہ اور تجارتی پالیسیوں میں مستقل مزاجی اور توازن پیدا نہ کر سکا تو عالمی مزاحمت مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔

اس پورے منظرنامے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا امریکا اور یورپ کے درمیان بڑھتی ہوئی تلخیاں وقتی ہیں یا یہ ایک مستقل جغرافیائی تبدیلی کا پیش خیمہ بن رہی ہیں؟ کیا ناٹو مستقبل میں بھی ایک مضبوط دفاعی اتحاد رہ سکے گا یا یورپ اپنی خودمختار دفاعی پالیسی کی طرف بڑھے گا؟ کیا عالمی معیشت نئے بلاکس میں تقسیم ہو جائے گی یا تعاون کی کوئی نئی صورت سامنے آئے گی؟ گرین لینڈ کے مستقبل اور افغان جنگ کے تناظر میں شروع ہونے والی یہ بحث دراصل عالمی سیاست کے بڑے تضادات کو بے نقاب کر رہی ہے۔ یہ محض ایک بیان کا مسئلہ نہیں بلکہ طاقت، اخلاقیات، معاشی مفادات اور عالمی قیادت کے کردار پر ایک وسیع تر سوال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب پرانے فارمولوں پر نہیں چل رہی۔ طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، اتحاد نئی شکل اختیار کر رہے ہیں اور ممالک اپنی خودمختاری اور مفادات کے تحفظ کے لیے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ امریکا اور یورپ کے درمیان بڑھتی ہوئی تلخیاں اسی بدلتی ہوئی عالمی حقیقت کی ایک جھلک ہیں، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو آنے والے برسوں میں عالمی سیاست کی سمت کا تعین کرے گی۔

ڈاکٹر عالمگیر آفریدی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکا اور یورپ کے درمیان بڑھتی ہوئی کی جانب سے نہیں بلکہ کے مستقبل امریکا کے کے ساتھ ہے کہ ا کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ اور یورپی کمیشن کی سلامتی پالیسی کی نائب صدر کایہ کالس اسلام آباد کا دورہ کریں گی۔

نجی ٹی وی چینل کےمطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کایہ کالس 31 مئی کو اسلام آباد پہنچیں گی، یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کی پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

یوکرین تنازع، امریکہ اسرائیل ایران جنگ اور عالمی توانائی و اقتصادی بحران کے تناظر میں دورہ اہمیت کا حامل ہے۔

مزید پڑھیں۔بجٹ کے بعد کون سے موبائل فون سستے ہو رہے ہیں؟ اہم خبر

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی