اسلام آباد خود کش دھماکا، عالمی برادری کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
عالمی برادری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ میں ہونے والے خود کش حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد امام بار گاہ میں خود کش دھماکا بھارت کی سرپرستی میں کیا گیا، وزیر مملکت برائے داخلہ کی میڈیا سے گفتگو
یورپی یونین نے اسلام آباد میں امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج اسلام آباد میں ہونے والے ہولناک خودکش حملے کی خبر سن کر ہمیں گہرا صدمہ پہنچا ہے، یورپی یونین ہر قسم کی دہشتگردی اور پرتشدد انتہاپسندی کی سخت مذمت کرتی ہے۔
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ’ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور شہدا اور زخمیوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔
Horrific news about the attack at Imam Bargah in Islamabad.
— Alex Berg von Linde (@SwedenAmbPK) February 6, 2026
سویڈن کے سفیر کی مذمتسویڈن کی پاکستان میں سفیر الیگزینڈرا برگ وون لنڈے نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اسلام آباد کی امام بارگاہ میں ہونے والے حملے کی ہولناک خبر پر ہمیں گہرا دکھ ہوا ہے، ہماری گہری تعزیت اور ہمدردیاں شہدا، زخمیوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔
کینیڈا کی دھماکے کی مذمتکینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ اسلام آباد خود کش دھماکے کی خبر سن کر انتہائی افسوس ہوا، جس میں کم از کم 31 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہوگئے۔
Horrified to learn of the bombing at a mosque near Islamabad, Pakistan that has killed at least 31 people, and injured over 150 more.
Canadians are keeping the people of Pakistan, the victims, wounded, and their loved ones in our thoughts today.
— Mark Carney (@MarkJCarney) February 6, 2026
آج کینیڈا کے عوام پاکستان کے عوام، شہداء، زخمیوں اور ان کے اہل خانہ کو اپنی دعاؤں اور خیالات میں یاد رکھے ہوئے ہیں۔
یو کے ہائی کمشنر کا ردعمل، پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اعلاناسلام آباد میں جمعہ کی نماز کے دوران امامبارگاہ پر ہونے والے ہولناک حملے پر برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے شہدا اور زخمیوں کے اہلِ خانہ کے لیے دعائیں کیں اور اس پر تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: ترلائی کی امام بارگاہ میں دھماکا، 30 سے زیادہ افراد جاں بحق، 80 سے زائد زخمی
یاد رہے کہ وفاقی دارالحکومت کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 80 سے زائد افراد زخمی ہوگئے جبکہ اس بزدلانہ حملے میں اب تک 31 افراد جاں بحق کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسلام اباد امام بارگاہ پاکستان خود کش دھماکا عالمی برادری کینیڈا مذمت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد امام بارگاہ پاکستان خود کش دھماکا عالمی برادری کینیڈا امام بارگاہ میں میں ہونے والے اسلام ا باد پاکستان کے اسلام آباد کے ساتھ کے اہل
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔