فوٹو: PakinAustria@

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں میں پاکستان کے سفارتخانے اور مستقل مشن کے زیرِ اہتمام یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

سفیر پاکستان کامران اختر ملک کی سربراہی میں منعقدہ تقریب میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

تقریب کا آغاز منظور بٹ کی تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا اور تھرڈ سیکریٹری سیدہ مبشرہ عروج نے مہمانوں کا تقریب میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

تقریب میں قومی ترانہ کے بعد حاضرین کو کشمیری عوام پر جاری بھارتی ریاستی دہشتگردی اور ظلم و ستم پر بنی ڈاکومنٹری فلم بھی دکھائی گئی۔

تقریب میں صدرِ پاکستان، وزیرِاعظم اور نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔ پاکستان کے سفیر اور مستقل نمائندے محمد کامران اختر ملک نے پیغامات پڑھتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدو جہد میں سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت پوری قوت سے جاری رکھے گا۔ 

سفیر پاکستان کا کہنا تھا کہ یومِ یکجہتی کشمیر کا سالانہ انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے جو گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے بھارت کے غیر قانونی فوجی قبضے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ 

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ محض تشویش کے اظہار تک محدود نہ رہے بلکہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کرے، سیاسی قیدیوں کو رہا کرے اور اقوامِ متحدہ و عالمی انسانی حقوق کے مبصرین کو بلا روک ٹوک رسائی دے تاکہ کشمیری عوام اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ 

تقریب میں آسٹریا اور سلوواکیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اور کشمیریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ 

تقریب میں شریک مقررین پروفیسر ملک مسرت شوکت اعوان اور دیگر شرکاء نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کے خلاف جاری جبر و تشدد کی شدید مذمت کی اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کا مطالبہ کیا۔ 

تقریب کے اختتام پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے بھرپور آواز بلند کی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کشمیری عوام

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا