ملک بھر میںکشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کا عہد، شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی
آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے مختلف مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی

پاکستان ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے جدوجہد آزادی میں مصروف کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کا دن منایا۔ یہ دن منانے کامقصد بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں وکشمیرکے عوام کے حق خودارادیت کے لئے منصفانہ جدوجہد میں ان کی حمایت کرناہے۔کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ملک بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا ۔اس موقع پر پورے ملک میں عام تعطیل رہی مظفرآباد میں صبح 9 بجے سے 10 بجے کے درمیان سائرن بجائے گئے اور کشمیری شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ ملک کے مختلف حصوں میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تقاریب منعقد ہوئیں، جبکہ آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے مختلف مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی۔آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مسئلہ کشمیر پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مظفرآباد کا دورہ کیا اور کشمیری عوام سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔یہ دن غیرقانونی زیرقبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی ظلم وستم کی جانب بین الاقوامی برادری کی توجہ مبذول کرانے کے لئے منایاجاتاہے۔اس سلسلے میں پاکستان اورآزادجموں وکشمیربھرمیں خصوصی پروگرامات ہوئے یکجہتی واکس اورریلیاں نکالی گئیں ۔ دارالحکومت اسلام آباد میں میں ریلیاں، دعائیہ تقاریب اور سیمینارز ہوئے ، جن میں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے عزم کا اظہار کیا گیا ۔ اسلام آباد میں مختلف سرکاری و نجی اداروں کی جانب سے تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا۔یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر مجموعی طور پر ملک بھر میں ایک ہی پیغام نمایاں ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کو ہر سطح پر جاری رکھے گا۔تحریک آزادی کشمیر کے شہدا کوخراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ملک بھرمیں دن دس بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں اسلام آباد میں وزیر امور کشمیر امیر مقام کی قیادت میں ریلی نکالی گئی۔ریلی چائنہ چوک سے شروع ہو کر ڈی چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔شرکا نے کشمیریوں کی حمایت میں نعرے لگائے۔انہوں نے کشمیریوں پر بھارتی مظالم اجاگر کرنے کیلئے بینرز بھی اٹھا رکھے تھے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امور کشمیر کے وزیر امیر مقام نے کہا کہ معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد میں ریلی میں شرکت حق خودارادیت کیلئے اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی جائز جدوجہد میں پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کشمیریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ وہ دن دور نہیں جب ان کی جدوجہد رنگ لائے گی۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کے کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیلئے اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرائے۔یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور اساتذہ نے آزاد کشمیر کا دورہ کیا۔ طلبہ اور اساتذہ مظفرآباد پہنچے جہاں انہوں نے یادگارِ شہدا پر حاضری دی، پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی۔اس موقع پر طلبہ اور اساتذہ نے کشمیری عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ بلوچ طلبہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کشمیری بھائیوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور ہر دم آپ کے ساتھ رہیں گے۔طلبہ نے بھارت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک مضبوط فوج رکھتا ہے اور کشمیر کبھی بھارت کا نہیں ہو سکتا، کشمیر پاکستان کا تھا، ہے اور رہے گا۔ اساتذہ نے شہدائے کشمیر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ وہ خود کشمیر آ کر اس کی حقیقت کو قریب سے جانیں۔دورے کے دوران بلوچستان کے طلبہ اور اساتذہ نے پاکستان، کشمیر اور افواجِ پاکستان کے حق میں نعرے بھی بلند کیے۔ بلوچ طلبہ کا آزاد کشمیر کا یہ دورہ مسئلہ کشمیر سے ملک بھر کے عوام کی اصولی وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: طلبہ اور اساتذہ یکجہتی کشمیر کشمیری عوام اساتذہ نے کرتے ہوئے انہوں نے کشمیر کے کو خراج کے ساتھ ملک بھر عوام کی

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی