مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پاماہی عالمی ضمیر کیلیے چیلنج ہے، پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے عالمی فورم پر بھرپور اور مؤثر انداز میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو اجاگر کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام دہائیوں سے جبر، تشدد اور ناانصافی کا سامنا کر رہے ہیں اور عالمی خاموشی ان کے زخموں کو مزید گہرا کر رہی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اپنے خطاب میں عاصم افتخار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو ان کا تسلیم شدہ حقِ خودارادیت دیے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مائیں آج بھی اپنے بیٹوں کی واپسی کی راہیں تکتی ہیں، جو گھروں سے نکلنے کے بعد کبھی واپس نہیں آتے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور اجتماعی سزائیں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں جب کہ 5 اگست 2019 کے غیرقانونی بھارتی اقدامات نے حالات کو مزید ابتر بنا دیا ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ ان اقدامات کے بعد مقبوضہ علاقوں میں سیاسی، سماجی اور معاشی زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔ تعلیم، صحت اور بنیادی انسانی سہولیات شدید متاثر ہیں اور کشمیری عوام کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں آج بھی موجود ہیں اور ان پر عمل درآمد عالمی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے گزشتہ سال پاکستان میں منعقد ہونے والی سماجی ترقی سے متعلق عالمی کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو ایک بار پھر ان خطوں کی جانب توجہ دینی چاہیے جہاں انسانی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ عالمی ادارے محض بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے کشمیری عوام کو انصاف دلائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کشمیری عوام نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش