Jasarat News:
2026-07-24@10:18:05 GMT

بلوچستان: ہندوستان کی دہشت گردی کا نیٹ ورک

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

31 جنوری 2026 کو بلوچستان میں عسکریت پسندوں نے کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی، گوادر سمیت 12 سے زائد مقامات پر مربوط حملے کیے، جن میں 11 شہری اور 67 عسکریت پسند مارے گئے۔ سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں ان حملوں کو ناکام بنا دیا، جبکہ پچھلے دو دنوں میں پنجگور اور شاپان میں مزید 41 عسکریت پسند ہلاک ہوئے، کل تعداد 108 ہو گئی۔ یہ حملے ہندوستان کی پاکستان مخالف دہشت گردی کی واضح مثال ہیں، جہاں تحقیقاتی ایجنسی بلوچستان لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہوں کو سرپرست کر رہا ہے۔ عسکریت پسندوں نے کوئٹہ میں پولیس گاڑیوں اور ہاکی چوک کے قریب بم حملے کی کوشش کی، جہاں 4 حملہ آور مارے گئے۔ نوشکی میں سرحدی دستوں کے صدر دفتر پر فائرنگ، دالبندین میں حفاظتی مراکز پر خودکش حملے اور گوادر، پسنی میں سڑکوں کو روکنے کی ناکام کوششیں ہوئیں۔ انڈپینڈنٹ اردو اور پاکستان ٹی وی کے مطابق یہ 12 مقامات پر مربوط کارروائیاں تھیں، جو بلوچستان لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان کے نیٹ ورک کی نشاندہی کرتی ہیں۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ فالو اپ کارروائیاں جاری ہیں، جو ہندوستانی سرپرستی کے آثار سامنے لا رہی ہیں۔

ہندوستان کی بلوچستان تحریک میں حمایت ہندوستان بلوچستان کی علٰیحدگی پسند تحریک کو کھل کر حمایت کرتا ہے، جیسا کہ وزیر اعظم مودی نے 2016 میں آزادی کے دن تقریر میں بلوچستان کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا۔ بلوچستان لبریشن آرمی نے 2025 میں ہندوستان کو پیغام دیا کہ وہ مغربی محاذ سے پاکستان کو گھیرے گا جبکہ ہندوستان مشرقی سے حملہ کرے۔ پاکستانی حکام کے مطابق، تحقیقاتی ایجنسی بلوچ عسکریت پسندوں کو ایران اور افغانستان کے ذریعے مالی امداد اور تربیت فراہم کرتی ہے۔ یہ حمایت سی پیک کو نقصان پہنچانے کا حصہ ہے، جہاں ہندوستان گوادر بندرگاہ کو پاکستان سے الگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی کا ایجنٹ2016 میں گرفتار ہندوستانی بحری افسر کلبھوشن یادو نے تسلیم کیا کہ وہ بھارتی تحقیقاتی ایجنسی را کی ہدایات پر چابہار سے بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں چلاتا تھا اور بلوچستان لبریشن آرمی، بلوچ ریپبلک آرمی کو مالی امداد دیتا تھا۔ اس نے 30-40 تحقیقاتی ایجنٹس مکران ساحل پر تعینات کرنے اور کراچی میں بدامنی پھیلانے کا بھی اعتراف کیا۔ بلوچستان کے وزیر داخلہ نے تصدیق کی کہ یادو کا نیٹ ورک بلوچ دہشت اور فرقہ وارانہ تشدد سے جڑا تھا۔ یہ واقعہ بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کا واضح مظہر ہے۔

پاکستان نے 2020 میں خفیہ دستاویزات جاری کیں جن میں بینک لین دین، خطوط اور کوڈڈ پیغامات سے ثابت کیا کہ بھارت تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور جماعت الاحرار کو لاکھوں ڈالر فراہم کرتا ہے۔ بلوچستان کے داخلہ وزیر ضیاء اللہ لانگو نے 2024 میں تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی کے کمانڈرز کی گرفتاری پر انکشاف کیا کہ ہندوستان ان کا واحد سرمایہ کار ہے۔ 60 ملین ڈالر سی پیک کو نقصان پہنچانے پر خرچ ہوئے، جبکہ افغانستان میں بھارتی سفارت خانے تربیتی کیمپ چلاتے ہیں۔ حالیہ بلوچستان حملے اسی نیٹ ورک کی پیداوار ہیں، جہاں کوئٹہ سے گوادر تک مربوط کارروائیاں بھارتی ہدایت پر ہوئیں۔

تحقیقاتی ایجنسی بلوچ دہشت گردوں کو افغانستان کے ننگرہار اور زابل سے تربیت دیتی ہے، جبکہ ایران کے سراوان اور سیستان سے کارروائیاں چلاتی ہے۔ جنداللہ جیسے گروہوں کو پاکستان سے جوڑا جاتا ہے، جو ایران اور پاکستان دونوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ بھارت کی چابہار میں سرمایہ کاری بلوچستان میں دہشت گردی کا مرکز ہے، جہاں سے کلبھوشن یادو کارروائیاں کرتا تھا۔ یہ راستے تحریک طالبان پاکستان کو بلوچستان منتقل کرنے اور 31 جنوری کی مربوط کارروائیوں کو ممکن بناتے ہیں۔

بھارت کھل کر بلوچستان کو اپنا علاقہ کہتا ہے، جیسا کہ مودی نے ’’بلوچستان کے لوگوں نے مجھے شکریہ ادا کیا‘‘ کہا۔ بلوچ نیشنل فرنٹ نے اسے پاکستان کا الزام قرار دیا، لیکن پاکستانی ذرائع اسے مداخلت کا مظہر مانتے ہیں۔ 2025 میں بلوچ رہنماؤں نے بھارت سے تسلیم طلبی کی، جو بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی کی سرپرستی کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ دعویٰ پاکستان میں دہشت گردی کا جواز فراہم کرتا ہے، جہاں ہر حملہ بھارت سرپرست عسکریت پسندوں کا ہے۔ پاکستان کی مضبوطی اور بھارت کا کردار بلوچستان کے حالیہ حملے بھارت کی سرپرستی شدہ دہشت گردی کے تسلسل کا حصہ ہیں، جہاں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی نیٹ ورک کو ایران، افغانستان کے ذریعے چلاتی ہے۔ سیکورٹی فورسز نے 108 عسکریت پسندوں کو ختم کر کے پاکستان کی برتری ثابت کی۔ بھارت اور اس کے زیر سایہ پلے والے دہشت گرد پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے ذمے دار ہیں، جبکہ ان کے آثار کل بھوشن یادو کے اعترافات اور، خفیہ دستاویزات اور بیانات میں موجود ہیں۔ پاکستان کو ان مداخلتوں کا سختی سے مقابلہ کرنا چاہیے۔

وجیہ احمد صدیقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بلوچستان لبریشن ا رمی تحریک طالبان پاکستان تحقیقاتی ایجنسی عسکریت پسندوں بلوچستان کے نیٹ ورک

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا

مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مقبوضہ کشمیر میں تیز  بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی تیز بارشوں کے بعد سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھولے دیے اور پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا۔ 

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور  وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔محکمہ ایریگیشن پنجاب کے مطابق سلال ڈیم کےگیٹ کھلنے سے دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونےلگی ہے ریلا آئندہ 48 گھنٹوں میں دریاِئے چناب وزیرآباد پہنچنے کا امکان ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور سہولت کار بھی پکڑے گئے
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار