بلوچستان: ہندوستان کی دہشت گردی کا نیٹ ورک
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
31 جنوری 2026 کو بلوچستان میں عسکریت پسندوں نے کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی، گوادر سمیت 12 سے زائد مقامات پر مربوط حملے کیے، جن میں 11 شہری اور 67 عسکریت پسند مارے گئے۔ سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں ان حملوں کو ناکام بنا دیا، جبکہ پچھلے دو دنوں میں پنجگور اور شاپان میں مزید 41 عسکریت پسند ہلاک ہوئے، کل تعداد 108 ہو گئی۔ یہ حملے ہندوستان کی پاکستان مخالف دہشت گردی کی واضح مثال ہیں، جہاں تحقیقاتی ایجنسی بلوچستان لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہوں کو سرپرست کر رہا ہے۔ عسکریت پسندوں نے کوئٹہ میں پولیس گاڑیوں اور ہاکی چوک کے قریب بم حملے کی کوشش کی، جہاں 4 حملہ آور مارے گئے۔ نوشکی میں سرحدی دستوں کے صدر دفتر پر فائرنگ، دالبندین میں حفاظتی مراکز پر خودکش حملے اور گوادر، پسنی میں سڑکوں کو روکنے کی ناکام کوششیں ہوئیں۔ انڈپینڈنٹ اردو اور پاکستان ٹی وی کے مطابق یہ 12 مقامات پر مربوط کارروائیاں تھیں، جو بلوچستان لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان کے نیٹ ورک کی نشاندہی کرتی ہیں۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ فالو اپ کارروائیاں جاری ہیں، جو ہندوستانی سرپرستی کے آثار سامنے لا رہی ہیں۔
ہندوستان کی بلوچستان تحریک میں حمایت ہندوستان بلوچستان کی علٰیحدگی پسند تحریک کو کھل کر حمایت کرتا ہے، جیسا کہ وزیر اعظم مودی نے 2016 میں آزادی کے دن تقریر میں بلوچستان کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا۔ بلوچستان لبریشن آرمی نے 2025 میں ہندوستان کو پیغام دیا کہ وہ مغربی محاذ سے پاکستان کو گھیرے گا جبکہ ہندوستان مشرقی سے حملہ کرے۔ پاکستانی حکام کے مطابق، تحقیقاتی ایجنسی بلوچ عسکریت پسندوں کو ایران اور افغانستان کے ذریعے مالی امداد اور تربیت فراہم کرتی ہے۔ یہ حمایت سی پیک کو نقصان پہنچانے کا حصہ ہے، جہاں ہندوستان گوادر بندرگاہ کو پاکستان سے الگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی کا ایجنٹ2016 میں گرفتار ہندوستانی بحری افسر کلبھوشن یادو نے تسلیم کیا کہ وہ بھارتی تحقیقاتی ایجنسی را کی ہدایات پر چابہار سے بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں چلاتا تھا اور بلوچستان لبریشن آرمی، بلوچ ریپبلک آرمی کو مالی امداد دیتا تھا۔ اس نے 30-40 تحقیقاتی ایجنٹس مکران ساحل پر تعینات کرنے اور کراچی میں بدامنی پھیلانے کا بھی اعتراف کیا۔ بلوچستان کے وزیر داخلہ نے تصدیق کی کہ یادو کا نیٹ ورک بلوچ دہشت اور فرقہ وارانہ تشدد سے جڑا تھا۔ یہ واقعہ بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کا واضح مظہر ہے۔
پاکستان نے 2020 میں خفیہ دستاویزات جاری کیں جن میں بینک لین دین، خطوط اور کوڈڈ پیغامات سے ثابت کیا کہ بھارت تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور جماعت الاحرار کو لاکھوں ڈالر فراہم کرتا ہے۔ بلوچستان کے داخلہ وزیر ضیاء اللہ لانگو نے 2024 میں تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی کے کمانڈرز کی گرفتاری پر انکشاف کیا کہ ہندوستان ان کا واحد سرمایہ کار ہے۔ 60 ملین ڈالر سی پیک کو نقصان پہنچانے پر خرچ ہوئے، جبکہ افغانستان میں بھارتی سفارت خانے تربیتی کیمپ چلاتے ہیں۔ حالیہ بلوچستان حملے اسی نیٹ ورک کی پیداوار ہیں، جہاں کوئٹہ سے گوادر تک مربوط کارروائیاں بھارتی ہدایت پر ہوئیں۔
تحقیقاتی ایجنسی بلوچ دہشت گردوں کو افغانستان کے ننگرہار اور زابل سے تربیت دیتی ہے، جبکہ ایران کے سراوان اور سیستان سے کارروائیاں چلاتی ہے۔ جنداللہ جیسے گروہوں کو پاکستان سے جوڑا جاتا ہے، جو ایران اور پاکستان دونوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ بھارت کی چابہار میں سرمایہ کاری بلوچستان میں دہشت گردی کا مرکز ہے، جہاں سے کلبھوشن یادو کارروائیاں کرتا تھا۔ یہ راستے تحریک طالبان پاکستان کو بلوچستان منتقل کرنے اور 31 جنوری کی مربوط کارروائیوں کو ممکن بناتے ہیں۔
بھارت کھل کر بلوچستان کو اپنا علاقہ کہتا ہے، جیسا کہ مودی نے ’’بلوچستان کے لوگوں نے مجھے شکریہ ادا کیا‘‘ کہا۔ بلوچ نیشنل فرنٹ نے اسے پاکستان کا الزام قرار دیا، لیکن پاکستانی ذرائع اسے مداخلت کا مظہر مانتے ہیں۔ 2025 میں بلوچ رہنماؤں نے بھارت سے تسلیم طلبی کی، جو بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی کی سرپرستی کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ دعویٰ پاکستان میں دہشت گردی کا جواز فراہم کرتا ہے، جہاں ہر حملہ بھارت سرپرست عسکریت پسندوں کا ہے۔ پاکستان کی مضبوطی اور بھارت کا کردار بلوچستان کے حالیہ حملے بھارت کی سرپرستی شدہ دہشت گردی کے تسلسل کا حصہ ہیں، جہاں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی نیٹ ورک کو ایران، افغانستان کے ذریعے چلاتی ہے۔ سیکورٹی فورسز نے 108 عسکریت پسندوں کو ختم کر کے پاکستان کی برتری ثابت کی۔ بھارت اور اس کے زیر سایہ پلے والے دہشت گرد پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے ذمے دار ہیں، جبکہ ان کے آثار کل بھوشن یادو کے اعترافات اور، خفیہ دستاویزات اور بیانات میں موجود ہیں۔ پاکستان کو ان مداخلتوں کا سختی سے مقابلہ کرنا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلوچستان لبریشن ا رمی تحریک طالبان پاکستان تحقیقاتی ایجنسی عسکریت پسندوں بلوچستان کے نیٹ ورک
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔