Jasarat News:
2026-06-02@23:14:33 GMT

بلوچستان: ہندوستان کی دہشت گردی کا نیٹ ورک

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260206-03-3
31 جنوری 2026 کو بلوچستان میں عسکریت پسندوں نے کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی، گوادر سمیت 12 سے زائد مقامات پر مربوط حملے کیے، جن میں 11 شہری اور 67 عسکریت پسند مارے گئے۔ سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں ان حملوں کو ناکام بنا دیا، جبکہ پچھلے دو دنوں میں پنجگور اور شاپان میں مزید 41 عسکریت پسند ہلاک ہوئے، کل تعداد 108 ہو گئی۔ یہ حملے ہندوستان کی پاکستان مخالف دہشت گردی کی واضح مثال ہیں، جہاں تحقیقاتی ایجنسی بلوچستان لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہوں کو سرپرست کر رہا ہے۔ عسکریت پسندوں نے کوئٹہ میں پولیس گاڑیوں اور ہاکی چوک کے قریب بم حملے کی کوشش کی، جہاں 4 حملہ آور مارے گئے۔ نوشکی میں سرحدی دستوں کے صدر دفتر پر فائرنگ، دالبندین میں حفاظتی مراکز پر خودکش حملے اور گوادر، پسنی میں سڑکوں کو روکنے کی ناکام کوششیں ہوئیں۔ انڈپینڈنٹ اردو اور پاکستان ٹی وی کے مطابق یہ 12 مقامات پر مربوط کارروائیاں تھیں، جو بلوچستان لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان کے نیٹ ورک کی نشاندہی کرتی ہیں۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ فالو اپ کارروائیاں جاری ہیں، جو ہندوستانی سرپرستی کے آثار سامنے لا رہی ہیں۔

ہندوستان کی بلوچستان تحریک میں حمایت ہندوستان بلوچستان کی علٰیحدگی پسند تحریک کو کھل کر حمایت کرتا ہے، جیسا کہ وزیر اعظم مودی نے 2016 میں آزادی کے دن تقریر میں بلوچستان کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا۔ بلوچستان لبریشن آرمی نے 2025 میں ہندوستان کو پیغام دیا کہ وہ مغربی محاذ سے پاکستان کو گھیرے گا جبکہ ہندوستان مشرقی سے حملہ کرے۔ پاکستانی حکام کے مطابق، تحقیقاتی ایجنسی بلوچ عسکریت پسندوں کو ایران اور افغانستان کے ذریعے مالی امداد اور تربیت فراہم کرتی ہے۔ یہ حمایت سی پیک کو نقصان پہنچانے کا حصہ ہے، جہاں ہندوستان گوادر بندرگاہ کو پاکستان سے الگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی کا ایجنٹ2016 میں گرفتار ہندوستانی بحری افسر کلبھوشن یادو نے تسلیم کیا کہ وہ بھارتی تحقیقاتی ایجنسی را کی ہدایات پر چابہار سے بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں چلاتا تھا اور بلوچستان لبریشن آرمی، بلوچ ریپبلک آرمی کو مالی امداد دیتا تھا۔ اس نے 30-40 تحقیقاتی ایجنٹس مکران ساحل پر تعینات کرنے اور کراچی میں بدامنی پھیلانے کا بھی اعتراف کیا۔ بلوچستان کے وزیر داخلہ نے تصدیق کی کہ یادو کا نیٹ ورک بلوچ دہشت اور فرقہ وارانہ تشدد سے جڑا تھا۔ یہ واقعہ بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کا واضح مظہر ہے۔

پاکستان نے 2020 میں خفیہ دستاویزات جاری کیں جن میں بینک لین دین، خطوط اور کوڈڈ پیغامات سے ثابت کیا کہ بھارت تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور جماعت الاحرار کو لاکھوں ڈالر فراہم کرتا ہے۔ بلوچستان کے داخلہ وزیر ضیاء اللہ لانگو نے 2024 میں تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی کے کمانڈرز کی گرفتاری پر انکشاف کیا کہ ہندوستان ان کا واحد سرمایہ کار ہے۔ 60 ملین ڈالر سی پیک کو نقصان پہنچانے پر خرچ ہوئے، جبکہ افغانستان میں بھارتی سفارت خانے تربیتی کیمپ چلاتے ہیں۔ حالیہ بلوچستان حملے اسی نیٹ ورک کی پیداوار ہیں، جہاں کوئٹہ سے گوادر تک مربوط کارروائیاں بھارتی ہدایت پر ہوئیں۔

تحقیقاتی ایجنسی بلوچ دہشت گردوں کو افغانستان کے ننگرہار اور زابل سے تربیت دیتی ہے، جبکہ ایران کے سراوان اور سیستان سے کارروائیاں چلاتی ہے۔ جنداللہ جیسے گروہوں کو پاکستان سے جوڑا جاتا ہے، جو ایران اور پاکستان دونوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ بھارت کی چابہار میں سرمایہ کاری بلوچستان میں دہشت گردی کا مرکز ہے، جہاں سے کلبھوشن یادو کارروائیاں کرتا تھا۔ یہ راستے تحریک طالبان پاکستان کو بلوچستان منتقل کرنے اور 31 جنوری کی مربوط کارروائیوں کو ممکن بناتے ہیں۔

بھارت کھل کر بلوچستان کو اپنا علاقہ کہتا ہے، جیسا کہ مودی نے ’’بلوچستان کے لوگوں نے مجھے شکریہ ادا کیا‘‘ کہا۔ بلوچ نیشنل فرنٹ نے اسے پاکستان کا الزام قرار دیا، لیکن پاکستانی ذرائع اسے مداخلت کا مظہر مانتے ہیں۔ 2025 میں بلوچ رہنماؤں نے بھارت سے تسلیم طلبی کی، جو بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی کی سرپرستی کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ دعویٰ پاکستان میں دہشت گردی کا جواز فراہم کرتا ہے، جہاں ہر حملہ بھارت سرپرست عسکریت پسندوں کا ہے۔ پاکستان کی مضبوطی اور بھارت کا کردار بلوچستان کے حالیہ حملے بھارت کی سرپرستی شدہ دہشت گردی کے تسلسل کا حصہ ہیں، جہاں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی نیٹ ورک کو ایران، افغانستان کے ذریعے چلاتی ہے۔ سیکورٹی فورسز نے 108 عسکریت پسندوں کو ختم کر کے پاکستان کی برتری ثابت کی۔ بھارت اور اس کے زیر سایہ پلے والے دہشت گرد پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے ذمے دار ہیں، جبکہ ان کے آثار کل بھوشن یادو کے اعترافات اور، خفیہ دستاویزات اور بیانات میں موجود ہیں۔ پاکستان کو ان مداخلتوں کا سختی سے مقابلہ کرنا چاہیے۔

وجیہ احمد صدیقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بلوچستان لبریشن ا رمی تحریک طالبان پاکستان تحقیقاتی ایجنسی عسکریت پسندوں بلوچستان کے نیٹ ورک

پڑھیں:

سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 24 مئی ٹرین حادثے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کئے، آپریشن کا سلسلہ مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں شروع کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں ہندوستانی پراکسی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیسی ساختہ بم بھی برآمد ہوئے، ہلاک دہشت گرد علاقے میں دہشت گرد کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہے، عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی، ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی