Jasarat News:
2026-07-24@02:34:14 GMT

بلوچستان: ہندوستان کی دہشت گردی کا نیٹ ورک

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260206-03-3
31 جنوری 2026 کو بلوچستان میں عسکریت پسندوں نے کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی، گوادر سمیت 12 سے زائد مقامات پر مربوط حملے کیے، جن میں 11 شہری اور 67 عسکریت پسند مارے گئے۔ سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں ان حملوں کو ناکام بنا دیا، جبکہ پچھلے دو دنوں میں پنجگور اور شاپان میں مزید 41 عسکریت پسند ہلاک ہوئے، کل تعداد 108 ہو گئی۔ یہ حملے ہندوستان کی پاکستان مخالف دہشت گردی کی واضح مثال ہیں، جہاں تحقیقاتی ایجنسی بلوچستان لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہوں کو سرپرست کر رہا ہے۔ عسکریت پسندوں نے کوئٹہ میں پولیس گاڑیوں اور ہاکی چوک کے قریب بم حملے کی کوشش کی، جہاں 4 حملہ آور مارے گئے۔ نوشکی میں سرحدی دستوں کے صدر دفتر پر فائرنگ، دالبندین میں حفاظتی مراکز پر خودکش حملے اور گوادر، پسنی میں سڑکوں کو روکنے کی ناکام کوششیں ہوئیں۔ انڈپینڈنٹ اردو اور پاکستان ٹی وی کے مطابق یہ 12 مقامات پر مربوط کارروائیاں تھیں، جو بلوچستان لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان کے نیٹ ورک کی نشاندہی کرتی ہیں۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ فالو اپ کارروائیاں جاری ہیں، جو ہندوستانی سرپرستی کے آثار سامنے لا رہی ہیں۔

ہندوستان کی بلوچستان تحریک میں حمایت ہندوستان بلوچستان کی علٰیحدگی پسند تحریک کو کھل کر حمایت کرتا ہے، جیسا کہ وزیر اعظم مودی نے 2016 میں آزادی کے دن تقریر میں بلوچستان کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا۔ بلوچستان لبریشن آرمی نے 2025 میں ہندوستان کو پیغام دیا کہ وہ مغربی محاذ سے پاکستان کو گھیرے گا جبکہ ہندوستان مشرقی سے حملہ کرے۔ پاکستانی حکام کے مطابق، تحقیقاتی ایجنسی بلوچ عسکریت پسندوں کو ایران اور افغانستان کے ذریعے مالی امداد اور تربیت فراہم کرتی ہے۔ یہ حمایت سی پیک کو نقصان پہنچانے کا حصہ ہے، جہاں ہندوستان گوادر بندرگاہ کو پاکستان سے الگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی کا ایجنٹ2016 میں گرفتار ہندوستانی بحری افسر کلبھوشن یادو نے تسلیم کیا کہ وہ بھارتی تحقیقاتی ایجنسی را کی ہدایات پر چابہار سے بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں چلاتا تھا اور بلوچستان لبریشن آرمی، بلوچ ریپبلک آرمی کو مالی امداد دیتا تھا۔ اس نے 30-40 تحقیقاتی ایجنٹس مکران ساحل پر تعینات کرنے اور کراچی میں بدامنی پھیلانے کا بھی اعتراف کیا۔ بلوچستان کے وزیر داخلہ نے تصدیق کی کہ یادو کا نیٹ ورک بلوچ دہشت اور فرقہ وارانہ تشدد سے جڑا تھا۔ یہ واقعہ بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کا واضح مظہر ہے۔

پاکستان نے 2020 میں خفیہ دستاویزات جاری کیں جن میں بینک لین دین، خطوط اور کوڈڈ پیغامات سے ثابت کیا کہ بھارت تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور جماعت الاحرار کو لاکھوں ڈالر فراہم کرتا ہے۔ بلوچستان کے داخلہ وزیر ضیاء اللہ لانگو نے 2024 میں تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی کے کمانڈرز کی گرفتاری پر انکشاف کیا کہ ہندوستان ان کا واحد سرمایہ کار ہے۔ 60 ملین ڈالر سی پیک کو نقصان پہنچانے پر خرچ ہوئے، جبکہ افغانستان میں بھارتی سفارت خانے تربیتی کیمپ چلاتے ہیں۔ حالیہ بلوچستان حملے اسی نیٹ ورک کی پیداوار ہیں، جہاں کوئٹہ سے گوادر تک مربوط کارروائیاں بھارتی ہدایت پر ہوئیں۔

تحقیقاتی ایجنسی بلوچ دہشت گردوں کو افغانستان کے ننگرہار اور زابل سے تربیت دیتی ہے، جبکہ ایران کے سراوان اور سیستان سے کارروائیاں چلاتی ہے۔ جنداللہ جیسے گروہوں کو پاکستان سے جوڑا جاتا ہے، جو ایران اور پاکستان دونوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ بھارت کی چابہار میں سرمایہ کاری بلوچستان میں دہشت گردی کا مرکز ہے، جہاں سے کلبھوشن یادو کارروائیاں کرتا تھا۔ یہ راستے تحریک طالبان پاکستان کو بلوچستان منتقل کرنے اور 31 جنوری کی مربوط کارروائیوں کو ممکن بناتے ہیں۔

بھارت کھل کر بلوچستان کو اپنا علاقہ کہتا ہے، جیسا کہ مودی نے ’’بلوچستان کے لوگوں نے مجھے شکریہ ادا کیا‘‘ کہا۔ بلوچ نیشنل فرنٹ نے اسے پاکستان کا الزام قرار دیا، لیکن پاکستانی ذرائع اسے مداخلت کا مظہر مانتے ہیں۔ 2025 میں بلوچ رہنماؤں نے بھارت سے تسلیم طلبی کی، جو بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی کی سرپرستی کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ دعویٰ پاکستان میں دہشت گردی کا جواز فراہم کرتا ہے، جہاں ہر حملہ بھارت سرپرست عسکریت پسندوں کا ہے۔ پاکستان کی مضبوطی اور بھارت کا کردار بلوچستان کے حالیہ حملے بھارت کی سرپرستی شدہ دہشت گردی کے تسلسل کا حصہ ہیں، جہاں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی نیٹ ورک کو ایران، افغانستان کے ذریعے چلاتی ہے۔ سیکورٹی فورسز نے 108 عسکریت پسندوں کو ختم کر کے پاکستان کی برتری ثابت کی۔ بھارت اور اس کے زیر سایہ پلے والے دہشت گرد پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے ذمے دار ہیں، جبکہ ان کے آثار کل بھوشن یادو کے اعترافات اور، خفیہ دستاویزات اور بیانات میں موجود ہیں۔ پاکستان کو ان مداخلتوں کا سختی سے مقابلہ کرنا چاہیے۔

وجیہ احمد صدیقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بلوچستان لبریشن ا رمی تحریک طالبان پاکستان تحقیقاتی ایجنسی عسکریت پسندوں بلوچستان کے نیٹ ورک

پڑھیں:

بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔

عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔

عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثر

واضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیا

عوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

واضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب

اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔

ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…

— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026

حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔

آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالات

حملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔

عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاری

بعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔

ایک روز قبل مسافر بس پر حملہ

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔

حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار