بسنت غیر شرعی و ناجائز ہے،عوام بائیکاٹ کریں،تنظیم اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260207-8-2
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)حکومت پنجاب کا مشرکانہ ہندوانہ تہوار ’بسنت‘ کو بحال کرنا انتہائی شرم ناک ہے۔ بسنت جیسے لغو تہواروں کی ترویج ہمارے معاشرتی نظام پر سوشل انجینئرنگ ایجنڈا کے تحت ایک خوف ناک حملہ ہے۔ عوام الناس بسنت کا مکمل بائیکاٹ کریں اور حکومتِ پنجاب ایسی ہندوانہ مشرکانہ خرافات سے گریز کرے۔ اِن خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے کم و بیش 8 لاکھ فوج تعینات کر رکھی ہے اور اسرائیلی ماڈل کی تقلید میں کشمیری مسلمانوں کی مسلسل نسل کُشی کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یومِ یکجہتی کشمیر سے عین مُتصِل حکومتِ پنجاب کی سرپرستی میں 3 دن پر محیط ہندوانہ مشرکانہ تہوار بسنت منانا نہ صرف مکمل طور پر غیرشرعی اور ناجائز ہے بلکہ کشمیری مسلمانوں کے پیٹھ میں چُھرا گھونپنے کے مترادف بھی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے دین نے شعائر اسلامی کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کو دو عیدیں، عیدالفطر اور عیدالاضحی تہوار کے طور پر عطا کی ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ کی جناب میں شکر کا پہلو غالب رہتا ہے۔ اسلام کے عبادتِ رب سے سرشار مزاج کے مطابق عیدوں میں شوروغل، ہنگامہ آرائی ، گانے بجانے ،عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے،فحاشی و بے حیائی کی محافل کے انعقاداور نہ اسراف و تبذیر کی گنجائش ہے بلکہ اسلام کی دونوں عیدوں کے دوران انتہائی متانت اور سنجیدگی سے اللہ تعالیٰ کی تکبیر و تہلیل کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بسنت درحقیقت ہندوؤں کی مشرکانہ ثقافت اور روایات کا لازمی جزو ہے، لہٰذا یہ نظریہ پاکستان کی مکمل نفی ہے جس کی بنیاد پر پاکستان کو قائم کیا گیا تھا۔ حکومت پنجاب کا ایسے ہندوانہ مشرکانہ تہوار کو مملکت خداداد پاکستان کی ثقافت کا حصّہ قرار دینا بے حسی اور بے حمیتی کی انتہا ہے پھر یہ کہ مغرب سے درآمد شدہ سوشل انجینئرنگ ایجنڈا کے تحت ایسے لغو تہوار منانے کی ترویج پاکستان کے معاشرتی نظام پر ایک خوفناک حملہ ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ عوام الناس اس ہندوانہ مشرکانہ تہوار کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ حکومت پنجاب اللہ تعالیٰ سے بغاوت پر توبہ کرے اور ایسے ہندوانہ مشرکانہ تہوار منانے سے مکمل گریز کرے۔ امیر تنظیم نے کہا کہ ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے اسی خطہ زمین پر عدل اجتماعی پر مبنی شریعت محمدی ﷺ کے نفاذ کے لیے اپنا تن من دھن لگا دیں تاکہ دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہندوانہ مشرکانہ تہوار نے کہا کہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی