‘تقریب کے دوران قیمتی جانوں کا ضیاع دہشتگردی کی غیر انسانی فطرت کا ثبوت،’ روسی صدر پیوٹن کی اسلام آباد دھماکے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اسلام آباد میں ہونے والے دہشت گرد حملے پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کو تعزیتی خطوط ارسال کیے ہیں۔
اسلام آباد میں قائم روسی سفارتخانے کے ایکس پر جاری بیان کے مطابق روسی صدر نے اپنے پیغام میں اسلام آباد میں دہشت گرد حملے کے المناک نتائج پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد خود کش دھماکا، سعودی عرب سمیت عالمی برادری کی شدید مذمت
انہوں نے کہا کہ مذہبی تقریب کے دوران قیمتی جانوں کا ضیاع دہشت گردی کی سفاک اور غیر انسانی فطرت کا ایک اور ثبوت ہے۔
✉️ Russian President Vladimir Putin sent letters of condolence to President Asif Ali Zardari and Prime Minister Shehbaz Sharif.
✍️ Dear Mr. President, Dear Mr. Prime Minister,
Please accept my deepest condolences on the tragic consequences of the terrorist attack in Islamabad.… pic.twitter.com/qJsG2U7gm3
— Embassy of Russia in Pakistan (@RusEmbPakistan) February 6, 2026
ولادیمیر پیوٹن نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ روس اس سلسلے میں اپنے پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
روسی صدر نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ اور لواحقین سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا، جبکہ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات بھی پیش کیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد دھماکا ترلائی دھماکا خودکش حملہ صدر ولادیمیر پیوٹن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد دھماکا ترلائی دھماکا خودکش حملہ صدر ولادیمیر پیوٹن اسلام آباد
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔