کراچی: ایکسپورٹ زون کی 2 فیکٹریوں میں آتشزدگی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
کراچی (سٹاف رپورٹر) شہر قائد کے علاقے لانڈھی کے ایکسپورٹ پراسسنگ زون میں قائم فیکٹری میں لگنے والی آگ بے قابو ہوگئی جس کے بعد اسے تیسرے درجے کا قرار دے دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق لانڈھی کے ایکسپورٹ پراسسنگ زون میں قائم پلاسٹک کی فیکٹری میں 8 بجے کے قریب آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔ آگ کے شعلوں نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آتشزدگی کو دیکھتے ہوئے شہر بھر سے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور ریسکیو ورکرز سمیت واٹر ٹینکر طلب کیے گئے جبکہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے بتایا کہ آگ کی شدت بہت زیادہ ہے اور اس نے تینوں طرف سے فیکٹری کو لپیٹ میں لے لیا ہے، چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ ملیر کورٹ سے قائد آباد تک شدید ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے گاڑیاں پھنس گئیں اور تاخیر سے پہنچی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے متاثرہ فیکٹری کی تفصیلی رپورٹ طلب کی اور کے ایم سی اور فائر سروسز کو ہنگامی ہدایات جاری کیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ انتظامیہ اور متعلقہ حکام مل کر واقعے کی مکمل تحقیقات کریں جبکہ متاثرہ مزدوروں و اہل خانہ کی فوری مدد کو یقینی بنایا جائے اور ریسکیو ٹیمیں بھی حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔