شہر قائد کے علاقے لانڈھی کے ایکسپورٹ پراسسنگ زون میں قائم فیکٹری میں لگنے والی آگ بے قابو ہوگئی جس کے بعد اُسے تیسرے درجے کا قرار دے دیا گیاہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق لانڈھی کے ایکسپورٹ پراسسنگ زون میں قائم پلاسٹک کی فیکٹری میں 8 بجے کے قریب آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔

آگ کے شعلوں نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آتشزدگی کو دیکھتے ہوئے شہر بھر سے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور ریسکیو ورکرز سمیت واٹر ٹینکر طلب کیے گئے جبکہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے بتایا کہ آگ کی شدت بہت زیادہ ہے اور اس نے تینوں طرف سے فیکٹری کو لپیٹ میں لے لیا ہے، ہم آگ پر قابو پانے اور عمارت کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آگ نے دو فیکٹریوں کو اپنی لیپٹ میں لے لیا ہے اور یہ تیسرے درجے کی شکل اختیار کرچکی ہے، جس کو بجھانے کیلیے 10 سے زائد فائر ٹینڈر اور اسنارکل مصروف ہیں اور شعلوں کو مزید پھیلنے سے روکا جارہا ہے۔

چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ ملیر کورٹ سے قائد آباد تک شدید ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے گاڑیاں پھنس گئیں اور تاخیر سے پہنچی ہیں۔

اُدھر مشیر وزیراعلی سندھ برائے بحالی گیان چند ایسرانی نے لاندھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فیکٹری میں آتشزدگی کا نوٹس لیتے ہوئے ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ و ریسکیو ٹیموں کو عملے سمیت وقوعہ پر پہنچنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے بتایا کہ آتشزدگی پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔ 

وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے  کمشنر کراچی سے متاثرہ فیکٹری کی تفصیلی رپورٹ طلب کی اور کے ایم سی اور فائر سروسز کو ہنگامی ہدایات جاری کیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ انتظامیہ اور متعلقہ حکام مل کر واقعے کی مکمل تحقیقات کریں جبکہ متاثرہ مزدوروں و اہل خانہ کی فوری مدد کو یقینی بنایا جائے اور ریسکیو ٹیمیں بھی حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے بتایا کہ میں لے لیا

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود