data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مہنگائی کے دباؤ میں پسے عوام کو جزوی ریلیف فراہم کرنے کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی اور فکسڈ چارجز کے نظام میں اہم ردوبدل کا فیصلہ کر لیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سلسلے میں پاور ڈویژن کی جانب سے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد باضابطہ طور پر درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی میں جمع کرا دی گئی ہے، جس پر نیپرا 10 فروری کو سماعت کرے گا۔

حکومتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجوزہ فیصلوں کا مقصد بجلی استعمال کے مختلف سلیبز میں توازن پیدا کرنا اور زیادہ یونٹس استعمال کرنے والے صارفین پر اضافی بوجھ کم کرنا ہے۔

حکومت کی تجویز کے مطابق ماہانہ 300 یونٹ سے زیادہ اور 700 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے فی یونٹ ٹیرف میں کمی کی جا رہی ہے، جب کہ اس کے ساتھ ساتھ فکسڈ چارجز کے نظام کو بھی ازسرنو ترتیب دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پہلی بار ماہانہ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جو ماضی میں صرف 300 یونٹ سے زائد استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین تک محدود تھے۔

پاور ڈویژن کی جانب سے دی گئی تفصیلات کے مطابق پروٹیکٹڈ صارفین میں ماہانہ 100 یونٹ بجلی استعمال کرنے والوں پر 200 روپے اور 200 یونٹ استعمال کرنے والوں پر 300 روپے فکسڈ چارجز عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اسی طرح نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے 100 یونٹ تک 275 روپے، 200 یونٹ تک 300 روپے اور 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے 350 روپے فکسڈ چارجز تجویز کیے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ 400 یونٹ تک استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین کے فکسڈ چارجز 200 روپے سے بڑھا کر 400 روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

حکومت کی مجوزہ پالیسی کے تحت زیادہ یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بعض سلیبز میں فکسڈ چارجز میں کمی بھی شامل ہے۔ ماہانہ 700 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کے فکسڈ چارجز 800 روپے سے کم کر کے 675 روپے جبکہ 700 یونٹ سے زائد استعمال پر بھی فکسڈ چارجز میں 325 روپے کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

ٹیرف میں کمی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 400 یونٹ استعمال پر فی یونٹ ایک روپے 53 پیسے، 500 یونٹ پر ایک روپے 25 پیسے، 600 یونٹ پر ایک روپے 40 پیسے اور 700 یونٹ استعمال پر 91 پیسے فی یونٹ کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

کمرشل صارفین، خصوصاً 5 کلوواٹ اور اس سے زائد لوڈ رکھنے والوں کے لیے فی یونٹ ایک روپے 15 پیسے کمی کی تجویز بھی درخواست کا حصہ ہے، جب کہ صنعتی شعبے کے لیے بجلی ٹیرف میں فی یونٹ پانچ روپے تک کمی کی تجویز شامل کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق اگر نیپرا نے ان تجاویز کی منظوری دے دی تو اس سے گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین کو نمایاں ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: استعمال کرنے والوں استعمال کرنے والے بجلی استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے پروٹیکٹڈ صارفین کمی کی تجویز فکسڈ چارجز صارفین کے ایک روپے ٹیرف میں کے مطابق یونٹ سے فی یونٹ یونٹ تک کے لیے

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ