بلوچستان میںمعروف دہشت گردوں نے ہتھیار ڈال دیے
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260207-08-18
کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) صوبہ بلوچستان میں قیامِ امن کے لیے سیکورٹی فورسز اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کے بھائی آفتاب بگٹی کی کوششیں جاری ہیں۔ آپریشن ردّالفتنہ کے دوران علاقے کے بدنام دہشت گردوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں، میراک خان چکرانی نے 25 ساتھیوں سمیت ریاست کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ سرینڈر کرنے والا یہ گروہ ماضی میں ڈکیتی اور بھتا خوری کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ سرینڈر کرنے والے دہشت گرد عناصر نے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی جمع کرایا۔ میراک خان چکرانی نے شدت پسند عناصر کے خلاف چکرانی امن فورس میں شمولیت کا بھی اعلان کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
ویب ڈیسک: صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ